وزیرستان: ڈھائی لاکھ بچوں کو پولیو کا خطرہ

پشاور: پولیو کے قطرے پلانے پر طالبان کی جانب سے عائد پابندی کے سبب صوبہ خیبر پختونخواہ کے ڈھائی لاکھ کے قریب بچوں پر منڈلاتے مہلک وبائی خطرے کے سائے مزید گہرے ہوجائیں گے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں پیر سے پولیو مہم کا آغاز ہونے والا ہے، تاہم قبائلی علاقوں میں طالبان کی طرف سے عائد پابندی کے باعث مہم خطرے میں پڑ گئی ہے۔
پولیو خاتمے کی مہم سے وابستہ ایک اعلیٰ اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ ہفتے یہ مہم شروع نہ ہوسکی تو صوبے کے دو لاکھ، چالیس ہزار بچوں کی صحت داؤ پر لگ سکتی ہے۔
مقامی طالبان رہنما حافظ گل بہادر نے،جن کے مسلح دستے افغانستان میں مغربی افواج سے برسرِ پیکار ہیں، امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بطور احتجاج خیبر پختونخواہ کے شمال مغربی قبائلی علاقے وزیرستان میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔
محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘نہ تو ہمیںفوج کی طرف سے کلیئرنس دی جارہی ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ کی جانب سے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر پولیو مہم شروع نہ ہوسکے۔’
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے مزید بتایا کہ ‘ہمیں طالبان کی طرف سے خطرہ ہے۔ اگر پولیو مہم کے دوران طالبان علاقوں میں گئے تو پھر ہمارے فیلڈ اسٹاف کی ذندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔’
یاد رہے کہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اس سال مئی میں ایک عدالت نے تینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ پولیو قطرے پلانے کی مہم کی آڑ میں انہوں نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی مدد کی تھی۔ ان دنوں وہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
صوبے کے قبائلی علاقوں کے امورِ صحت کے ڈائریکٹر فواد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ’اگر خراب امن و امان کی صورتِ حال کا سامنا کرنے والے قبائلی علاقوں میں پولیو مہم شروع نہ ہوئی تو اس کے باعث شمالی وزیرستان میں کم ازکم ایک لاکھ، ساٹھ ہزار اور جنوبی وزیرستان میں اسّی ہزار بچوں کے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔’
اس حوالے سے انتظامیہ اور مقامی طالبان کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم پولیو مہم کے دوران کام کرنے والے عملے کو وزیرستان کے علاقوں میں مہم شروع کرنے کے لیے اب تک ‘گرین سگنل’ نہیں دیا گیا ہے۔
ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ قبائلی رہنما اور انتظامیہ پیر کو مشترکا طوراس بات کا جائزہ لیں گے کہ وزیرستان میں بچوں کو پولیو قطرے پلانے کی مہم کس طرح چلائی جاسکتی ہے۔
جنوبی وزیرستان میں سن دو ہزار نو سے پاکستانی فوج مقامی جنگجو طالبان سے نبرد آزما ہے۔
ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ‘اس علاقے میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا بہت مشکل نہیں ہوگا کم از کم ان علاقوں میں جہاں نقل مکانی کرنے والی آبادی لوٹ کر دوبارہ آباد ہوچکی ہے۔’
طبّی جریدے ‘لینسیٹ میڈیکل جرنل’ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں پولیو کے اضافے کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان میں ایک سو اٹھانوے بچے پولیو سے متاثر ہوئے۔ سن دو ہزار دس میں یہ تعداد ایک سو چوالیس تھی۔
پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا دنیا کے وہ تین ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو وبائی مرض کی صورت موجود ہے۔
سرعت سے اثر انداز ہونے والا پولیو وائرس عام طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عمر بھر کے لیے مفلوج ہوجاتے ہیں اور ان کا نچلا دھڑ بے جان ہوجاتا ہے

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں