پروفیسر وہاب اشرفی کے انتقال پر جاپان سے ناصر ناکاگاوا کا اظہار تعذیت
وہاب اشرفی کی جوانی کی تصویرٹوکیو/نئی دہلی: جاپان سے شائع ہونے والے آن لائن اردو اخبار اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعلی ناصر ناکاگاوا اور بیورو چیف برائے ہندوستان کامران غنی نے مشترکہ بیان میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب، ناقد اور محقق پروفیسر وہاب اشرفی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو اردو زبان و ادب کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ناصر ناکاگاوا نے کہا کہ وہاب اشرفی جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہاب اشرفی نے تا زندگی نام و نمود کی پروا کیے بغیر زبان و ادب کی بے لو ث خدمت کی۔ تحقیق وتنقید کے میدان میں اُنھوں نے غیر جانب داری اور تنقیدی اصولوں کو ہمیشہ ملحوظ رکھا۔جناب ناکاگاوا نے کہا کہ پروفیسر وہاب اشرفی نے اپنی تحقیق و تنقید سے اردو ادب کے دامن کو وسعت بخشی۔ ادب کے تئیں اُن کی محبت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ مستقل بیمار رہنے کے باوجود وہ اپنی عمر کے آخری ایام تک علمی و ادبی مجالس میں شرکت کرتے رہے۔اُنھوں نے کہا کہ وہاب اشرفی اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ تحقیق کے میدان میں اُنھوں نے کئی ایسے کام کئے جو کئی لوگ مل کر بھی نہیں کر پاتے۔ وہاب اشرفی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر کے ہمیں انھیں سچا خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں۔ناصر ناکاگاوا اور کامران غنی نے وہاب اشرفی کے پسماندگان سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بلندئ درجات کی دعا کی ہے کہ اللہ تبارک وتعالی مرحوم کو جنت الفردوس اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
ناصر ناکاگاوا(جاپان)
کامران غنی(نئی دہلی)