انتقامی کاروائیاں سندھ میں مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کا راستہ نہیں روک سکتیں، بلال اعجاز شفیع
پاکستان مسلم لیگ(ن) ضلع غربی کراچی کے صدر میاں بلال اعجاز شفیع نے مسلم لیگ(ن) سندھ کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی انتقامی کاروائیاں سندھ میں مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کا راستہ نہیں روک سکتیں. یوتھ ونگ کراچی کے صدر آصف خان اور ان کے ساتھیوں پر جھوٹے مقدمات کے بعد پارٹی کے مرکزی رہنما سردار ممتاز علی بھٹو کی زمینوں پر ریاستی حملہ اور اب مرکزی مجلس عاملہ کے رکن نوابزادہ امیر بخش بھٹو کے خلاف قتل کی جھوٹی ایف آئی آر نے حکومت کی انتقامی کاروائیوں کو بے نقاب کردیا ہے. میاں بلال اعجاز شفیع ضلعی جنرل سیکریٹری امان آفریدی کے ہمراہ پارٹی کے ضلعی دفتر میں ایک غیر رسمی اجلاس کے شرکا سے گفتگو کر رہے تھے جس میں ضلعی سیکریٹری اطلاعات وحید جان کے علاوہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں چوہدری اسلم کنول، عظیم قادری،اقبال خاکسار، تاج بونیری، چودھری نواز، زاہد تنولی، کریم خان، حبیب الرحمن، رانا وارث، سردار خان، سردار معین ،فیصل ندیم گجر، سٹی 97 کے صدر عبد النبی بروہی، سٹی 96 کے صدر نجیب اللہ نیازی اور دیگر شریک تھے. میاں بلال اعجاز شفیع نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) سندھ میں حکمران جماعت کے لئے سیاسی خطرہ بن چکی ہے اور میاں نواز شریف کو ملنے والی عوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہوچکی ہے. حکمران جان چکے ہیں کہ سندھ کے عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے اسی لئے ناموس رسالت ریلی نکالنے پر صرف مسلم لیگ(ن) یوتھ ونگ کراچی کے صدر اور ان کے ساتھیوں پر جھوٹے مقدمے قائم کئے گئے لیکن جب میاں نواز شریف نے سندھ کے پے درپے دورے کرنے شروع کردئیے تو حکمرانوں نے کھل کر ریاستی مشینری کو مسلم لیگ(ن) کے خلاف استعمال کرنے کا آغاز کردیا. کیٹی ممتاز بھٹو پر ریاستی اداروں کی چڑھائی اور پھر مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما امیر بخش بھٹو کے خلاف قتل کی ایف آئی آر سے ثابت ہو گیا کہ حکمران سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے .مسلم لیگ(ن) ضلع غربی کے تمام عہدیداران اور کارکنان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر قائم کئے گئے مقدمات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں.چار سالوں سے سندھ میں پھیلی بد امنی کی اصل وجہ صرف یہی ہے کہ حکمران امن و امان قائم کرنے سے زیادہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو نشانہ بنانے میں مصروف رہے ہیں لیکن اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سندھ پر مسلط جبر کا جمود ہمیشہ کے لیئے ختم ہوجائے گا.