ہیلی کاپٹر دریائے سندھ میں گر کر تباہ….ڈی جی پنجاب رینجرز بیٹے اور دو افسروں سمیت جاں بحق
لاہور (م ڈ) پنجاب رینجرز کا ہیلی کاپٹر لیہ سے 50 کلومیٹر دور سلطان بکھری احمد خان کے قریب دریائے سندھ میں گر گیا جس کے نتیجے میں ڈی جی پنجاب رینجرز بیٹے اور 2 افسروں سمیت جاںبحق ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر میں ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل محمد نواز‘ ان کے بیٹے اے ڈی سی کیپٹن محمد آصف نواز‘ پائلٹ لیفٹیننٹ کرنل عامر عباس اور صوبےدار عباد احمد سوار تھے۔ ریسکیو ٹیموں اور غوطہ خوروں نے 2 افراد کی نعشیں ہیلی کاپٹر کا انجن ‘ دو پر ‘ ایک موبائل فون اور ایمرجنسی بیگ دریا سے نکال لئے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب رینجرز کا ہیلی کاپٹر جس میں ڈی جی رینجرز پنجاب محمد نواز اور دیگر 3 افسران سوار تھے معمول کی پرواز پر ڈی آئی خان سے کشمور کی جانب جا رہا تھا کہ موسم کی خرابی کے باعث اپنی منزل پہ نہ جا سکا‘ پائلٹ نے صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ ملتان میں ہنگامی لینڈنگ کرنا چاہتا ہے لیکن دس منٹ بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا جس کے بعد ہیلی کاپٹر دریائے سندھ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر گرنے کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر منگلا، ریسکیو اور آرمی کی غوطہ خور ٹیمیں حادثہ کی جانب روانہ کردی گئیں جبکہ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مقامی شہری بھی موقع پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ سہ پہر ساڑھے تین بجے تک دریا سے دو نعشیں نکالی جا سکیں جو ٹکڑوں میں تقسیم تھیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیلی کاپٹر شدید آندھی میں دریائے سندھ کے قریب پہنچا تو اس کے پچھلے حصے میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہ زمین پر گرا لیکن فوراً ہی دوبارہ اڑا اور دھماکے کے ساتھ دریائے سندھ میں جاگرا اور کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک نعش کی شناخت کیپٹن آصف نواز کے نام سے ہوئی جبکہ دوسری نعش ناقابل شناخت تھی۔ پنجاب رینجرز کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد نواز انٹرنل سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ٹروپس کا جائزہ لینے کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان سے کشمور روانہ ہوئے تاہم خراب موسم کی وجہ سے ملتان کی طرف چلے گئے۔ ہیلی کاپٹر کی کنٹرول ٹاور سے بات ہوئی‘ پائلٹ نے موسم کی خرابی کا بتایا اور کنٹرول ٹاور سے رابطہ کٹ گیا جس کے بعد حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر کے کچھ حصے ریت میں دھنسے ہوئے بھی ملے جبکہ انجن میں ایک اژدھا بھی زندہ ملا جسے رینجرز اور ریسکیو عملہ نے فوری طور پر ہلاک کر دیا۔ مقامی چرواہے محمد عابد عینی شاہد کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات آندھی اور طوفان کی وجہ سے فضا ابر آلود تھی اور آسمان پر کچھ دکھائی نہ دیتا تھا تاہم میں نے فضا میں گڑگڑاہٹ اور پٹاخے چلنے کی آوازیں سنیں اور کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک ہیلی کاپٹر جو بالکل زمین کے قریب آ کر پانی میں جا گرا چند اور لوگ جن کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر بالکل نچلی سطح پر آ گیا اور درختوں سے بھی ٹکرایا اور اس میں شعلے بھی بلند ہوئے۔ پھر پانی میں جا گرا۔ مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ پہلے گڑگڑاہٹ اور کسی چیز کے پھٹنے جیسی آوازیں آئیں پھر ہیلی کاپٹر نظر آیا جو دریا میں گرا۔ ہیلی کاپٹر کا فضا میں بکھر جانا معمہ بنا ہوا ہے۔ میاں محمد نوازشریف اور شہباز شریف نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔ الگ الگ تعزیتی پیغام میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔شہباز شریف نے کہا کہ وہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد نواز کو ذاتی طور پر جانتے تھے‘ وہ فرض شناس آفیسر اور شریف آدمی تھے۔ انہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی۔