چین روس تعلقات اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ جغرافیائی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ، تجارتی تنازعات اور بین الاقوامی نظام میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی استحکام کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین اور روس کے تعلقات کو موجودہ عالمی حالات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
اسی تناظر میں ،روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ دورۂ چین کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر استحکام اور مثبت سفارتی ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
رواں برس چین اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کو تیس برس مکمل ہو رہے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان “معاہدۂ ہمسائیگی و دوستانہ تعاون” کے پچیس برس بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ ان اہم سنگ میلوں کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں۔
چین اور روس کے تعلقات باہمی احترام، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے اعتراف اور مشترکہ تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک نے اپنی قومی ضروریات اور حالات کے مطابق ترقی کی راہیں اختیار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہتیں حاصل ہوئی ہیں اور انہیں نئی عالمی صورتحال میں بڑی طاقتوں کے تعلقات کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر مسلسل ملاقاتوں نے سیاسی اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی رابطے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سطح تک لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ عملی تعاون میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان مستقل رابطوں کے نظام نے کئی شعبوں میں مثبت نتائج پیدا کیے ہیں۔ توانائی کا شعبہ خاص طور پر دونوں ممالک کے تعاون کا ایک اہم ستون بن چکا ہے جہاں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر مسلسل پیش رفت جاری ہے۔
تجارتی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں چین اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 228 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ مسلسل تیسرے سال تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ چین مسلسل سولہ برس سے روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا ہوا ہے۔
اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور عوامی روابط میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے ماضی میں ثقافت، کھیل اور سائنسی و تکنیکی تعاون کے خصوصی سال منائے جبکہ رواں برس “چین روس تعلیمی سال” کے طور پر مختلف تبادلہ پروگراموں اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سرگرمیوں سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد اور دوستی کو مزید فروغ ملے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان ویزا میں نرمی اور بعض شعبوں میں ویزا فری پالیسیوں نے بھی عوامی روابط کو آسان بنایا ہے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی مثبت رجحان سامنے آیا ہے اور حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملکوں میں آمدورفت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
چین اور روس کا تعاون صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی نظام میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مضبوط بنانے، کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ اور بین الاقوامی انصاف کے قیام کے لیے مختلف عالمی فورمز پر مشترکہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی قوانین، سفارتی اصولوں اور عالمی اداروں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ بعض خطوں میں تنازعات اور طاقت کی سیاست میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں چین اور روس کی اسٹریٹجک ہم آہنگی کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار، بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی نظام کا تحفظ ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مسائل کا حل محاذ آرائی یا طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، تعاون اور مشترکہ ترقی میں پوشیدہ ہے۔
اسی مقصد کے تحت چین اور روس شنگھائی تعاون تنظیم، برکس اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان فورمز کے ذریعے عالمی نظام کو زیادہ منصفانہ، متوازن اور جامع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی عالمی فیصلوں میں مؤثر کردار حاصل ہو سکے۔
مبصرین کے نزدیک بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں چین اور روس کے تعلقات کی اہمیت صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا تعاون اس بات کی مثال بن رہا ہے کہ بڑی طاقتیں بلاک سیاست، تصادم اور زیروسم ذہنیت سے ہٹ کر بھی باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کر سکتی ہیں۔
موجودہ حالات میں جہاں دنیا کو استحکام، تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے، وہاں چین اور روس کے تعلقات کو ایک ایسے ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو کثیر قطبی دنیا، بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت اور عالمی استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔