چین عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، عالمی تجارتی تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان مختلف ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے چین کے مسلسل دورے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مئی کے آغاز سے اب تک وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت متعدد اہم عالمی شخصیات نے چین کا رخ کیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ عالمی سفارت کاری کے منظرنامے میں چین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اسی طرح حالیہ دنوں ، وسطی ایشیا، یورپ، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سطح وفود نے چین کے دورے کیے ہیں۔ ان دوروں میں نہ صرف سیاسی روابط بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، علاقائی تعاون اور عالمی استحکام جیسے معاملات بھی مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایک ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار کی تلاش میں ہیں جو غیر یقینی عالمی ماحول میں استحکام، ترقی اور تعاون کے مواقع فراہم کر سکے۔
اگر گزشتہ چند ماہ کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں کے اعلیٰ رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ساتھ بڑے کاروباری وفود بھی شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی تعاون ان روابط کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔ مختلف ممالک کے سیاسی اور معاشی حالات اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم ان سب کی بنیادی ترجیحات میں استحکام، اقتصادی ترقی، نئی منڈیاں اور قابلِ اعتماد شراکت داری شامل ہیں۔
عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود چین نے رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً پانچ فیصد اقتصادی ترقی حاصل کی، جسے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی حلقوں کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت، سب سے بڑی تجارتی طاقت، وسیع داخلی منڈی اور مضبوط صنعتی و سپلائی چین رکھنے والا چین عالمی سرمایہ کاروں اور حکومتوں کے لیے مسلسل کشش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک اب چین کو صرف ایک تجارتی شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ عالمی استحکام کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود متعدد ممالک نے اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں میں چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔
ان سفارتی دوروں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے رہنما اب چین کی ترقی کو براہِ راست دیکھنے اور سمجھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی عالمی شخصیات نے چین کے جدید شہروں، ٹیکنالوجی مراکز، صنعتی زونز، تیز رفتار ریل نظام، مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور ماحولیاتی ترقیاتی اقدامات کا مشاہدہ کیا۔ اس عمل نے چین کے بارے میں موجود کئی روایتی تصورات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بعض عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کو صرف محدود یا یکطرفہ معلومات کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں بلکہ اس کی ترقی، طرز حکمرانی اور سماجی تبدیلیوں کو براہِ راست دیکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک کے وفود اب چین کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، غربت کے خاتمے، ماحولیات کے تحفظ اور شہری منصوبہ بندی جیسے شعبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
چین کی تیز رفتار تکنیکی ترقی بھی عالمی توجہ کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید مینوفیکچرنگ، روبوٹکس اور گرین ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں چین کی پیش رفت نے کئی ممالک کو تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ عالمی کاروباری حلقے چین کی ٹیکنالوجی، وسیع منڈی اور صنعتی صلاحیتوں کو مستقبل کی عالمی معیشت کے اہم عناصر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق چین کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عالمی سطح پر خود کو استحکام، شراکت داری اور کثیرالجہتی تعاون کے حامی ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصے سیاسی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور علاقائی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، چین مسلسل عالمی تعاون، کھلی معیشت اور مشترکہ ترقی کی حمایت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ چین عالمی نظام میں توازن پیدا کرنے، ترقی پذیر ممالک کی آواز بلند کرنے اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کے تحفظ میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں کے ممالک چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات، اقتصادی اتحاد اور بین الاقوامی تعاون کے نئے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں چین نہ صرف ایک بڑی اقتصادی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو عالمی استحکام، اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔
چین کے مسلسل بڑھتے ہوئے سفارتی روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی برادری اب نئی عالمی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تعلقات اور ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کر رہی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں چین کی جانب بڑھتا ہوا رجحان اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک مستقبل کی ترقی، استحکام اور تعاون کے لیے بیجنگ کو ایک اہم شراکت دار تصور کر رہے ہیں۔