خلا میں 210 روزہ تاریخی قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی کامیاب واپسی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

انسانی خلائی تحقیق کی دنیا میں چین مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حالیہ پیش رفت نے نہ صرف چین کی سائنسی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا ہے بلکہ مستقبل کی گہری خلائی مہمات کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔ اسی سلسلے میں چین کے شین زو-21 مشن کے تینوں خلانورد 210 روز تک خلا میں قیام کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ مشن چین کے خلائی اسٹیشن کی تاریخ میں کسی ایک عملے کی جانب سے خلا میں طویل ترین مسلسل موجودگی کا نیا ریکارڈ بھی بن گیا ہے۔
چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی کے مطابق شین زو-21 مشن کے خلانوردوں کی واپسی کا عمل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مکمل کیا گیا، جس کے دوران خلائی جہاز کے مختلف حصوں کی علیحدگی اور واپسی کے تمام مراحل کامیابی سے انجام پائے۔
مشن کے دوران خلانوردوں نے نہ صرف روزمرہ آپریشنل ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال، سائنسی تجربات اور بیرونی خلائی سرگرمیوں سمیت متعدد اہم فرائض بھی سرانجام دیے۔ اس دوران تین خلائی چہل قدمیاں کی گئیں جبکہ خلائی اسٹیشن کو ممکنہ خلائی ملبے سے محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی آلات بھی نصب کیے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف کارگو آپریشنز اور تکنیکی معائنوں کو بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا۔
اس مشن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ عملے کے کمانڈر نے مجموعی طور پر سات خلائی چہل قدمیاں مکمل کر کے چینی خلائی پروگرام کی تاریخ میں سب سے زیادہ خلائی چہل قدمیاں کرنے والے خلانورد کا اعزاز حاصل کر لیا۔
عملے کے دیگر ارکان نے بھی اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک خلانورد نے پہلی ہی خلائی پرواز میں متعدد خلائی چہل قدمیاں انجام دیں جبکہ دوسرے رکن نے خلائی اسٹیشن میں مختلف سائنسی منصوبوں اور تحقیقی تجربات کی نگرانی کی۔ ان سرگرمیوں نے چین کے سائنسی اور تحقیقی اہداف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شین زو-21 مشن کے دوران مائیکرو گریویٹی، خلائی مواد، حیاتیاتی علوم، خلائی طب اور نئی خلائی ٹیکنالوجیز سے متعلق متعدد اہم تجربات کیے گئے۔ محققین نے پہلی مرتبہ چین کے خلائی اسٹیشن میں چوہوں کی بند ماحول میں افزائش کا کامیاب تجربہ کیا، جس سے مستقبل میں ممالیہ جانوروں پر خلائی تحقیق کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔
اسی طرح کم نقائص والے خاص کرسٹل خلا میں تیار کیے گئے جنہیں بعد ازاں زمین پر جدید الیکٹرانک آلات کی تیاری میں استعمال کیا گیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ان سے تیار ہونے والے آلات کی کارکردگی روایتی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی۔
خلائی طب کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔ عملے نے بغیر کسی جسمانی رابطے کے چہرے کی باریک حرکات کے ذریعے جسمانی صحت کے مختلف اشاریوں کی نگرانی کی اور خلانوردوں کی جسمانی تھکاوٹ کا ابتدائی تجزیاتی ماڈل تیار کیا۔ یہ کامیابیاں مستقبل کے طویل المدتی خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم تصور کی جا رہی ہیں۔
زرعی تحقیق کے شعبے میں بھی پہلی مرتبہ چین کے خلائی اسٹیشن پر چیری ٹماٹر اور گندم کی مٹی کے بغیر کاشت کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اس سے خلائی ماحول میں خوراک کی پیداوار سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں جو مستقبل میں چاند یا دیگر سیاروں پر انسانی موجودگی کے منصوبوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ایک نئے قسم کے آئنک مائع ایندھن کو خلا میں کامیابی سے جلایا گیا اور اس کے احتراقی عمل سے متعلق اہم معلومات حاصل کی گئیں۔ یہ تجربہ مستقبل کے جدید خلائی انجنوں اور خلائی نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مشن کے دوران ایک غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب سابقہ خلائی جہاز کے واپسی ماڈیول کی کھڑکی کو خلائی ملبے سے ممکنہ نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا۔ تاہم متعلقہ اداروں نے فوری متبادل انتظامات کرتے ہوئے نئے خلائی جہاز کو ہنگامی واپسی کے لیے روانہ کیا، جس سے چین کے خلائی پروگرام کی تکنیکی تیاری اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ ہوا۔
چین گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے خلائی پروگرام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ خلائی اسٹیشن کی تکمیل، چاند کی مہمات، مریخ کی تحقیق اور بین الاقوامی خلائی تعاون کے منصوبے اس طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ حالیہ کامیاب مشن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ چین اب عالمی خلائی تحقیق میں ایک اہم اور بااثر قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔
مجموعی طور پر شین زو-21 مشن کی کامیاب تکمیل نہ صرف چین کی خلائی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ یہ سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور انسانی عزم کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ خلائی اسٹیشن پر حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کی بین السیاراتی مہمات، خلائی طب، زرعی تحقیق اور نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یوں یہ مشن چین کے خلائی سفر میں ایک اور تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ہے جو آنے والے برسوں میں مزید بڑی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔