تعمیراتی صنعت میں ایک نئی ماحول دوست تبدیلی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، رہائشی ضروریات میں اضافہ، تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافے اور تیز رفتار شہری ترقی نے ہاؤسنگ کے شعبے کو نئے حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں چین کی تیار شدہ یا پری فیبریکیٹڈ رہائشی عمارتیں عالمی منڈی میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ یہ گھر نہ صرف کم لاگت اور مختصر وقت میں تیار کیے جا سکتے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ڈیزائن اور مضبوط تعمیراتی معیار کی وجہ سے بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا سے لے کر روس، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ تک مختلف ممالک میں چینی تیار شدہ گھروں کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
چین کی تعمیراتی صنعت گزشتہ چند برسوں میں نمایاں تکنیکی ترقی سے گزری ہے۔ روایتی تعمیراتی طریقوں کے برعکس اب فیکٹریوں میں تیار ہونے والے گھروں کے مختلف حصے پہلے سے تیار کیے جاتے ہیں اور بعد میں انہیں تعمیراتی مقام پر چند گھنٹوں یا چند دنوں میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے تعمیراتی شعبے میں رفتار، معیار اور لاگت کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
اس رجحان کی ایک مثال آسٹریلیا میں دیکھی گئی جہاں ایک خاتون نے اپنے گھر کے عقبی حصے میں اضافی رہائش گاہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ مقامی تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے بھاری لاگت اور طویل انتظار کے اوقات کے مقابلے میں ایک چینی فولڈنگ گھر نے ان کی توجہ حاصل کی۔ چند گھنٹوں میں نصب ہونے والا یہ گھر بیڈروم، ڈرائنگ روم، باورچی خانے اور دیگر ضروری سہولیات سے مکمل طور پر آراستہ تھا جبکہ اس کی قیمت مقامی تعمیراتی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔
یہ رجحان صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں۔ روس سمیت متعدد ممالک میں بھی چینی ماڈیولر گھروں، اسپیس کیپسول ہاؤسز اور جدید طرز کے چھوٹے رہائشی یونٹس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر یہ یونٹس سیاحتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں لوگ نہ صرف قیام کرتے ہیں بلکہ ان منفرد ڈیزائنز کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے بھی آتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی پری فیبریکیٹڈ عمارتوں کی برآمدات گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ 2015 میں یہ برآمدات تقریباً 1.47 ارب امریکی ڈالر تھیں جو 2025 تک بڑھ کر 4.34 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی اس شعبے میں 45 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکہ، آسٹریلیا، روس، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک ان برآمدات کی اہم منڈیاں بن چکے ہیں۔
تعمیراتی شعبے سے وابستہ حلقوں کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں پری فیبریکیٹڈ گھروں کی مانگ کی بڑی وجہ مزدوری اور تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، رہائشی یونٹس کی کمی اور روایتی تعمیرات میں لگنے والا طویل وقت ہے۔ دوسری جانب ترقی پذیر ممالک میں صنعتی سپلائی چین، تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید تعمیراتی انتظام کی کمی اس طلب کو مزید بڑھا رہی ہے۔
چین کی جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کی ایک نمایاں مثال فلپائن میں قائم کیا جانے والا بارہ منزلہ رہائشی منصوبہ ہے۔ روایتی طریقوں کے تحت جس عمارت کی تکمیل میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ لگ سکتا تھا، اسے صرف نو دن میں مکمل کر لیا گیا۔ اس منصوبے میں عمارت کے بیشتر حصے پہلے ہی فیکٹری میں تیار کیے گئے تھے اور تعمیراتی مقام پر صرف ان کی تنصیب کی گئی۔
چینی کمپنیوں نے اس شعبے میں تحقیق اور ترقی پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ بعض اداروں نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک جدید تعمیراتی مواد اور ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کیا، جس کے نتیجے میں ایسے ہلکے مگر انتہائی مضبوط ڈھانچے تیار کیے گئے جو زلزلوں اور طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان جدید مواد سے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی عمر بھی روایتی کنکریٹ عمارتوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے تناظر میں بھی یہ ٹیکنالوجی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ جدید پری فیبریکیٹڈ عمارتیں روایتی تعمیرات کے مقابلے میں کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لاتی ہیں جبکہ توانائی کے استعمال کو بھی مؤثر بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں گرین بلڈنگ اور پائیدار تعمیرات کے مستقبل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چین میں اس صنعت کی ترقی کے پیچھے حکومتی معاونت بھی ایک اہم عنصر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں پری فیبریکیٹڈ اور اسمارٹ تعمیرات کے فروغ کے لیے مالی مراعات، آسان انتظامی طریقہ کار اور خصوصی پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے گرین اور کم کاربن تعمیراتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی جاری ہے۔
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت کم توانائی استعمال کرنے والی اور پری فیبریکیٹڈ عمارتوں کے بڑے پیمانے پر فروغ کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد تعمیراتی شعبے کو مزید ماحول دوست، جدید اور مؤثر بنانا ہے۔
صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں اس شعبے کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ڈیزائن، خودکار پیداوار اور اسمارٹ تعمیراتی نظام اس صنعت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں۔ اب یہ شعبہ عارضی ڈھانچوں سے آگے بڑھ کر اعلیٰ معیار، ذہین اور ماحول دوست تعمیراتی حل فراہم کرنے کی جانب گامزن ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کی پری فیبریکیٹڈ تعمیراتی صنعت نہ صرف ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ عالمی تعمیراتی منڈی میں بھی ایک نئی سمت متعین کر رہی ہے۔ کم لاگت، تیز رفتار تعمیر، بہتر معیار اور ماحول دوست خصوصیات نے ان گھروں کو دنیا بھر میں مقبول بنا دیا ہے۔ مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل جدت کے ذریعے یہ صنعت عالمی تعمیراتی شعبے میں مزید نمایاں مقام حاصل کرے گی اور رہائش کے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔