حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں چین کی پیش رفت

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

21

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، جنگلات میں کمی، آلودگی اور نایاب جنگلی حیات کے تحفظ جیسے مسائل تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں مختلف ممالک قدرتی ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین نے بھی حالیہ برسوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور سبز ترقی کے میدان میں نمایاں اقدامات کیے ہیں، جن کے اثرات اب نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ چین کی حکمت عملی اس بات کی مثال بن رہی ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو اقتصادی ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ کس طرح جوڑا جا سکتا ہے۔

چین کی کامیاب پالیسیوں اور منصوبوں کو دنیا بھر کے ماہرین ایک مؤثر ماڈل قرار دے رہے ہیں۔ شیزانگ کے برف پوش پہاڑی سلسلوں سے لے کر جنوبی چین کے گرم مرطوب بارانی جنگلات تک، مختلف خطوں میں قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات جاری ہیں۔

چین نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو قومی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ 2021 میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق عالمی کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی مستقبل کی تعمیر کے لیے قدرتی ماحول کا احترام، قدرتی قوانین کی پیروی اور ماحول کا تحفظ ناگزیر ہے۔

حالیہ برسوں میں چین نے قومی پارکوں کے نظام کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جائنٹ پانڈا، برفانی چیتے اور یانگسی دریا کی نایاب ڈولفن سمیت کئی خطرے سے دوچار انواع کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے مطابق 2015 سے 2025 کے درمیان دنیا میں جنگلات کے رقبے میں سب سے زیادہ خالص اضافہ چین میں ریکارڈ کیا گیا۔یہ کامیابیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ جنگلات کے فروغ، قدرتی ماحول کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مسلسل اور منظم اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔

چین نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنے قانونی اور ادارہ جاتی نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے۔ رواں برس ایک اہم ماحولیاتی تحفظ کا ضابطہ منظور کیا گیا، جسے ماہرین ماحولیاتی تحفظ کے قانونی ڈھانچے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس ضابطے کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے بڑے چیلنجز سے زیادہ مربوط اور منظم انداز میں نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس نئے قانونی نظام سے نہ صرف چین میں ماحول دوست ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ مختلف ممالک کے درمیان ماحولیاتی تعاون اور تجربات کے تبادلے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

چین کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق حکمت عملی صرف قدرتی ماحول کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ اسے مقامی معیشت اور عوامی فلاح کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں نے مقامی آبادی کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔کچھ متاثرہ علاقوں میں جہاں ماضی میں قدرتی آفات کے باعث شدید نقصان پہنچا تھا، وہاں اب ماحول دوست سیاحت، ثقافتی صنعتوں اور خدمات کے شعبے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں مقامی آبادی کی بڑی تعداد اب ایکو ٹورازم اور ثقافتی سرگرمیوں سے وابستہ روزگار حاصل کر رہی ہے۔

چین نے سبز ترقی، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے پائیدار ترقی کے لیے ایک مؤثر ماڈل پیش کیا ہے۔ یہ تجربہ دنیا کے دیگر ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین کے نزدیک چین میں گزشتہ ایک دہائی سے فروغ پانے والا ماحولیاتی تہذیب کا تصور عالمی ماحولیاتی حکمرانی کے لیے ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔ آلودگی پر قابو پانے، قدرتی ماحول کے تحفظ اور سبز ترقی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانے کا طریقہ دیگر ممالک، خصوصاً حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔

چین کے نزدیک  ماحولیات کا تحفظ، اقتصادی ترقی، سماجی خوشحالی اور انسانی فلاح ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں، اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ان تمام اہداف کے حصول کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

چین حیاتیاتی تنوع کے عالمی نظامِ حکمرانی میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے۔ مختلف ممالک میں ماحولیاتی نگرانی، جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی، تربیت اور سائنسی تبادلوں کے منصوبے جاری ہیں۔

کچھ افریقی ممالک میں چینی اور مقامی ماہرین مشترکہ طور پر حیاتیاتی تنوع سے متعلق اعداد و شمار کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ تحفظ کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی نوعیت کے تعاون کے منصوبے افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کے بعض دیگر علاقوں میں بھی جاری ہیں۔چین نے 2021 اور 2022 میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق عالمی کانفرنس کی میزبانی بھی کی، جس کے دوران ایک اہم عالمی فریم ورک منظور کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد 2030 تک حیاتیاتی تنوع میں کمی کو روکنا اور قدرتی ماحول کی بحالی کو فروغ دینا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق یہ فریم ورک عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے ماحولیاتی بحالی، مالی معاونت اور تکنیکی تعاون کے ذریعے افریقہ، ایشیا پیسیفک، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ سمیت مختلف خطوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی سلسلے میں قائم کیے گئے بعض فنڈز کے ذریعے درجنوں ممالک میں مختلف ماحولیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جا رہی ہے۔

چین کی موجودہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سبز ترقی اور بین الاقوامی تعاون ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں چین عالمی ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے میدان میں مزید اہم کردار ادا کرے گا۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button