صحت مند طرز زندگی کی جانب چین کا سفر

تحریر: شاہد افراز خان

11

صحت مند معاشرہ کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ جدید دور میں جہاں شہری زندگی، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور ذہنی دباؤ مختلف صحت کے مسائل کو جنم دے رہے ہیں، وہاں دنیا کے کئی ممالک عوامی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نئی حکمت عملیاں اپنا رہے ہیں۔ چین بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں صحت عامہ کو قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وزن میں کمی، جسمانی سرگرمیوں کے فروغ، کھیلوں کے کلچر اور طبی خدمات کے ساتھ ورزش کو مربوط کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

چین میں اس وقت "ویٹ مینجمنٹ ایئر” یعنی وزن کے مؤثر انتظام کے تین سالہ قومی پروگرام کا آخری مرحلہ جاری ہے، جس کا مقصد عوام میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور موٹاپے جیسے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شہروں اور علاقوں میں منفرد اور دلچسپ مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔

مشرقی چین کے ایک شہر میں شروع کی گئی "چربی کم کرو، گوشت حاصل کرو” مہم نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اس مہم کے تحت شہریوں کو ہر آدھا کلو وزن کم کرنے پر اتنی ہی مقدار میں گوشت بطور انعام دیا جاتا ہے۔ ایک فرد زیادہ سے زیادہ دس کلوگرام تک انعام حاصل کر سکتا ہے۔ اس مہم میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ اصل مقصد انعام حاصل کرنا نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی جانب قدم بڑھانا ہے، تاہم انعامی نظام نے ورزش اور وزن میں کمی کے لیے اضافی حوصلہ افزائی فراہم کی ہے۔

ایسی مہمات کا مقصد دبلا پن کو فروغ دینا نہیں بلکہ لوگوں کو بتدریج اور صحت مند طریقے سے وزن کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اسی لیے شرکاء کو سخت ڈائٹنگ یا غیر ضروری ادویات کے استعمال سے روکا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے اہلکار انہیں مناسب رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔

صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کا یہ رجحان صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں کی جسمانی سرگرمیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کئی اسکولوں میں بچوں کو روزانہ کم از کم دو گھنٹے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

وقفے کے دوران روایتی کھیلوں، دوڑ، ورزش اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں نہ صرف جسمانی فٹنس بہتر ہو رہی ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما، خود اعتمادی اور سماجی روابط میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے بچوں میں نظم و ضبط، برداشت اور مثبت سوچ جیسی خصوصیات بھی پیدا ہوتی ہیں۔

دوسری جانب بالغ افراد میں بھی ورزش کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسمارٹ واچز، فٹنس بینڈز اور صحت سے متعلق ڈیجیٹل آلات کی فروخت میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اپنی صحت کے بارے میں پہلے سے زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں۔ میراتھن دوڑ، ٹریل رننگ اور دیگر آؤٹ ڈور کھیلوں کی مقبولیت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

کئی شہروں میں میراتھن مقابلوں میں شرکت کے لیے اتنی زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں کہ بعض اوقات رجسٹریشن حاصل کرنا کسی بڑے ثقافتی یا تفریحی پروگرام کا ٹکٹ حاصل کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد کی مثالیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے باقاعدہ ورزش کے ذریعے موٹاپے، جگر میں چربی، بے خوابی اور دیگر بیماریوں پر قابو پایا ہے۔

چینی حکام نے ورزش کو بیماریوں کی روک تھام، صحت کے فروغ اور بحالی صحت کے نظام کا اہم حصہ بنانے کے لیے بھی متعدد ہدایات جاری کی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف عمر اور ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے موزوں اور متنوع ورزشوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں کھیلوں کی بنیادی سہولیات بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے بیشتر شہری اور دیہی علاقوں میں چند منٹ کے فاصلے پر کھیلوں اور ورزش کی سہولیات دستیاب ہیں۔ 2025 کے اختتام تک فی کس کھیلوں کے میدانوں اور سہولیات کا رقبہ 3.11 مربع میٹر تک پہنچ چکا تھا جبکہ سات سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 38.5 فیصد افراد باقاعدگی سے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس پورے عمل میں ایک اور اہم پیش رفت کھیلوں اور صحت کی خدمات کا باہمی انضمام ہے۔ بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں ورزش کو طبی نگرانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

ان مراکز میں آنے والے افراد پہلے طبی معائنہ اور جسمانی استعداد کے مختلف ٹیسٹ کرواتے ہیں، جس کے بعد انہیں ان کی صحت کے مطابق مخصوص ورزشیں تجویز کی جاتی ہیں۔ اس دوران طبی عملہ مسلسل نگرانی بھی کرتا ہے تاکہ ورزش محفوظ اور مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔

چین کے مختلف علاقوں میں وزن کے انتظام اور صحت مند زندگی کے لیے خصوصی کلینکس بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔ ہزاروں طبی ادارے اب وزن کم کرنے اور صحت مند زندگی سے متعلق خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بعض مراکز میں جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو ان کی جسمانی کیفیت کے مطابق آن لائن ورزش کے منصوبے اور صحت سے متعلق مشورے بھی دیے جا رہے ہیں۔

کھیلوں، ورزش اور طبی سہولیات کے اس امتزاج کو مستقبل کی صحت عامہ کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں صحت کے انتظام کا نظام مزید ڈیجیٹل، ڈیٹا پر مبنی اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ ہو جائے گا، جس سے ہر فرد کو اس کی عمر، صحت اور ضروریات کے مطابق رہنمائی فراہم کی جا سکے گی۔

مختصراً، چین میں صحت مند زندگی کے فروغ کے لیے جاری اقدامات صرف وزن کم کرنے یا ورزش کی حوصلہ افزائی تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد بیماریوں کی روک تھام، معیارِ زندگی میں بہتری اور ایک زیادہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے۔ ورزش، جدید طبی سہولیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے امتزاج نے اس سفر کو نئی رفتار دی ہے، اور یہی ماڈل مستقبل میں عوامی صحت کے شعبے میں مزید مثبت تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button