انصاف کی حقیقی روح

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

human rights 3

انصاف کی حقیقی روح اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب عدالتی نظام عوام تک خود پہنچے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں جغرافیائی مشکلات، دشوار گزار راستے اور محدود سہولیات انصاف تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہوں۔ چین کے بعض دور دراز پہاڑی اور قومیتی اقلیتی علاقوں میں گزشتہ برسوں کے دوران عدالتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک منفرد ماڈل اختیار کیا گیا، جس نے نہ صرف قانونی خدمات کو آسان بنایا بلکہ عوام اور عدلیہ کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کیا۔ یہ ماڈل آج دیہی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جنوب مغربی چین کے صوبہ یون نان کے نو جیانگ لیسو خوداختیار پریفیکچر میں ایک جج دینگ شینگ نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک روایتی عدالتوں کی بجائے دیہاتوں، کھیتوں اور دور افتادہ بستیوں میں جا کر مقدمات کی سماعت کی۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا تھا، جہاں بلند پہاڑ، گہری وادیاں اور دشوار گزار راستے عدالتوں تک رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیتے تھے۔

متعلقہ عدالتی عہدے دار ، جو اس وقت نو جیانگ انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے انفورسمنٹ ڈویژن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے اپنے عدالتی کیریئر کے دوران سرکٹ عدالتوں اور مقامی سطح پر تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کو فروغ دیا، جس کے ذریعے دور افتادہ دیہات تک عدالتی خدمات پہنچائی گئیں۔

اس دوران ان کی متعدد تصاویر منظر عام پر آئیں جن میں وہ معلق پلوں سے گزر کر شور مچاتے دریاؤں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کو عبور کرتے ہوئے مقدمات کی سماعت کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کر رہے تھے۔ اس وقت ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، اس لیے عدالتی عملے کو کئی کئی گھنٹے پیدل سفر کر کے دیہات تک پہنچنا پڑتا تھا۔

عدالتی حکام کے مطابق بیشتر مقدمات سرکٹ عدالتوں کے ذریعے نمٹائے جاتے تھے۔ اس مقصد کے لیے پہاڑی راستوں پر پیدل چلنا، رسیوں کے ذریعے دریا عبور کرنا اور دشوار گزار چڑھائیاں طے کرنا معمول کا حصہ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالت کو عوام کے درمیان لے جانے سے نہ صرف لوگوں کا اعتماد حاصل ہوا بلکہ تنازعات کے حل میں بھی نمایاں آسانی پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق عام شہری کی بنیادی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ مقدمے کے حقائق کو غیر جانبداری سے جانچا جائے اور قانون کے مطابق منصفانہ فیصلہ دیا جائے۔

چونکہ وہ مقامی قومیتی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، اس لیے وہ ایسے بزرگ شہریوں سے بھی براہ راست گفتگو کر سکتے تھے جو معیاری چینی زبان نہیں بول سکتے تھے۔ بعد ازاں جب انہیں ضلعی سطح کی عدالت کی ذمہ داری سونپی گئی تو انہوں نے نوجوان ججوں کو بھی یہ تلقین کی کہ وہ صرف فائلوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کے گھروں اور محلوں تک جا کر تنازعات کے حل میں کردار ادا کریں۔

عدالتی خدمات سے مستفید ہونے والے مقامی افراد کے مطابق اس طرز عمل سے نہ صرف مقدمات خوش اسلوبی سے حل ہوئے بلکہ تمام فریقوں کو اطمینان بھی حاصل ہوا۔نوجوان عدالتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تربیت دی گئی کہ اگر کسی مسئلے کا حل صرف عدالتی فیصلے سے ممکن نہ ہو تو متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کر کے عوام کے عملی مسائل بھی حل کیے جائیں، تاکہ انصاف صرف کاغذی فیصلوں تک محدود نہ رہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری بھی آئے۔

دیہی احیاء کے منصوبوں کے نتیجے میں ان علاقوں میں نئی سڑکیں اور پل تعمیر ہونے سے اب عدالتوں تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہو چکی ہے، تاہم سرکٹ عدالتوں کا نظام آج بھی دور دراز آبادیوں میں قانونی خدمات کی فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں بعض مقامات پر "الاؤ عدالت” کا تصور بھی متعارف کرایا گیا، جہاں سرد موسم میں مقامی افراد آگ کے گرد بیٹھ کر دوستانہ ماحول میں اپنے تنازعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ عدالتی حکام کے مطابق اس ماحول میں اکثر معاملات باضابطہ عدالتی کارروائی سے پہلے ہی افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہو جاتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکٹ عدالتوں نے صرف انفرادی مقدمات ہی حل نہیں کیے بلکہ سماجی ہم آہنگی، امن و استحکام اور مقامی اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے بھی مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی ہے۔

اگرچہ عمر ڈھلنے کے باعث  دینگ شینگ آج پہلے کی طرح پہاڑوں اور دریاؤں کو عبور کر کے مقدمات کی سماعت نہیں کرتے، تاہم نئی نسل کے عدالتی اہلکار اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہی عدالتی نظام کی اصل طاقت ہے اور یہی جذبہ نوجوان اہلکاروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن چکا ہے۔

آج دینگ شینگ ایک نئی ذمہ داری میں خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ان کے مطابق عوام کی خدمت کا مقصد کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ عدالتی نظام کی تمام تر کوشش یہی ہے کہ مختلف قومیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے تمام شہری یہ محسوس کریں کہ انصاف اور قانون ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

چین کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں سرکٹ عدالتوں کا یہ ماڈل اس بات کی عملی مثال ہے کہ انصاف صرف عدالت کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ اسے عوام کی دہلیز تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مقامی زبان، عوامی رابطے، دیہی خدمات اور قانون کی منصفانہ عملداری نے نہ صرف عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ سماجی استحکام، دیہی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو بھی نئی تقویت دی ہے۔ یہی طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی انصاف وہی ہے جو ہر شہری تک بلا امتیاز پہنچے، خواہ وہ کسی بھی دور افتادہ علاقے میں کیوں نہ رہتا ہو۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button