قدیم تہذیب سے جدید دور تک چین کا ثقافتی تسلسل

تحریر: شاہد افراز خان

Beijing Central

دنیا کی قدیم تہذیبوں میں چند ہی ایسی تہذیبیں ہیں جو ہزاروں برس گزرنے کے باوجود نہ صرف اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہوں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل نئے سانچے میں بھی ڈھالتی رہی ہوں۔ چینی تہذیب انہی منفرد تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ پانچ ہزار سال سے زائد قدیم تاریخ کی حامل یہ تہذیب آج بھی اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستہ رہتے ہوئے جدیدیت، اختراع اور ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ جولائی 2024 میں بیجنگ سنٹرل ایکسس کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال عالمی سطح پر زیر بحث آیا کہ آخر وہ کون سی خصوصیات ہیں جنہوں نے چینی تہذیب کو صدیوں تک زندہ، متحرک اور اثر انگیز رکھا ہے۔

بیجنگ سنٹرل ایکسس دراصل دارالحکومت بیجنگ کے قلب سے گزرنے والی تقریباً 7.8 کلومیٹر طویل تاریخی لکیر ہے جو شمال میں بیل اور ڈرم ٹاورز سے شروع ہو کر جنوب میں یونگ ڈنگ گیٹ تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس محور کے ساتھ چین کے متعدد تاریخی اور ثقافتی شاہکار واقع ہیں جن میں پیلس میوزیم، جِنگ شان پارک اور ٹیمپل آف ہیون سمیت کئی اہم مقامات شامل ہیں۔ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے یہ مقام قدیم چینی تعمیراتی فن، شہری منصوبہ بندی اور تہذیبی دانش کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جبکہ چین کے لیے یہ اس کی تہذیبی شناخت اور ثقافتی تسلسل کی علامت ہے۔

جون 2023 میں ثقافتی ورثے اور ترقی سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے جدید چینی تہذیب کی تعمیر کو ایک نئی ثقافتی ذمہ داری قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی بہترین روایتی ثقافت کو تخلیقی تبدیلی اور اختراعی ترقی کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ قدیم تہذیبی ورثہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران رونما ہونے والی متعدد ثقافتی پیش رفتیں اسی سوچ کی عملی عکاسی کرتی ہیں۔

بیجنگ سنٹرل ایکسس کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت، اسپرنگ فیسٹیول کو عالمی سطح پر مزید پذیرائی ملنا، ڈیجیٹل ثقافتی منصوبوں کی ترقی اور "بلیک میتھ: ووکونگ” اور "نی ژا 2” جیسی ثقافتی مصنوعات کی عالمی کامیابی اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین اپنی روایتی ثقافت کو نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

بیجنگ سنٹرل ایکسس اس ثقافتی تسلسل کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس کی بنیاد یوآن عہد میں رکھی گئی تھی جبکہ منگ اور چنگ ادوار میں اسے مزید وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی۔ سات صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تاریخی محور آج بھی بیجنگ کی شہری ساخت اور شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ تاہم اس کی اہمیت صرف تاریخی یادگار تک محدود نہیں بلکہ یہ جدید شہری زندگی کا بھی ایک فعال جزو بن چکا ہے۔

پیلس میوزیم، جو اس تاریخی محور کا ایک اہم حصہ ہے، دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 کے دوران یہاں سترہ ملین سے زائد افراد نے دورہ کیا۔ تعطیلات کے دوران اس کے ٹکٹ چند منٹوں میں فروخت ہو جانا اس کی غیر معمولی مقبولیت کا مظہر ہے۔ یہی نہیں، پیلس میوزیم اور ٹیمپل آف ہیون حالیہ برسوں میں متعدد بین الاقوامی وفود اور عالمی شخصیات کی میزبانی بھی کر چکے ہیں، جس سے یہ تاریخی مقامات ثقافتی سفارت کاری کے اہم پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔

بیجنگ کے رہائشی روزمرہ زندگی میں بھی اس تاریخی محور سے جڑے ہوئے ہیں۔ لوگ یہاں چہل قدمی کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں اور مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ یوں ایک زمانے میں شاہی حکمرانی کی علامت سمجھی جانے والی یہ جگہ آج جدید شہری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔

یہ تبدیلی صرف بیجنگ تک محدود نہیں۔ چین بھر میں عجائب گھر، ثقافتی مراکز اور تاریخی مقامات نوجوان نسل کے لیے کشش کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ بڑے تہواروں اور تعطیلات کے دوران معروف عجائب گھروں کی بکنگ کئی روز پہلے مکمل ہو جاتی ہے جبکہ نمائش گاہوں میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ثقافتی بیداری کی نئی لہر کی عکاسی کرتی ہے۔

روایتی دستکاریوں اور غیر مادی ثقافتی ورثے کو بھی نئی زندگی مل رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں صدیوں پرانی روایات سیاحت، فیشن اور جدید ڈیزائن کا حصہ بن رہی ہیں۔ روایتی ہنر سکھانے والی ورکشاپس اور ثقافتی بازار نوجوان نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے بھی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں نئی جہتیں متعارف کرائی ہیں۔ قدیم غاروں، تاریخی نقاشیوں اور نایاب ثقافتی آثار کو ورچوئل پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔ جدید طرز کی ڈیجیٹل نمائشیں تاریخ کو صرف دیکھنے کے بجائے اسے محسوس کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں "چائنا ٹریول” کے رجحان نے بھی عالمی سطح پر خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سیاح چین کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو سمجھنے کے لیے پیلس میوزیم، ٹیمپل آف ہیون اور بیجنگ سنٹرل ایکسس جیسے مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ انہیں یہاں صرف تاریخی عمارتیں ہی نظر نہیں آتیں بلکہ ایک ایسی تہذیب کا مشاہدہ بھی ہوتا ہے جو اپنی روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے مسلسل ترقی کر رہی ہے۔

چین ثقافتی تبادلوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو، لیانگ جو فورم اور نیشان فورم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطوں اور باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سوچ کی بنیاد اس یقین پر قائم ہے کہ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھتے ہوئے مشترکہ ترقی کی راہ اختیار کر سکتی ہیں۔

درحقیقت بیجنگ سنٹرل ایکسس کی کہانی صرف تعمیرات اور شہری منصوبہ بندی کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جس نے صدیوں کے سفر میں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مسلسل خود کو نئے دور کے مطابق ڈھالا ہے۔ اس کی اصل طاقت صرف ماضی کے تحفظ میں نہیں بلکہ مسلسل تجدید، اختراع اور ترقی کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔

آج بھی بیجنگ سنٹرل ایکسس دارالحکومت کے قلب سے گزرتا ہے اور ایک لحاظ سے یہ چینی تہذیب کے سفر کی بھی نمائندگی کرتا ہے؛ ایک ایسا سفر جو تاریخ سے جڑا ہوا ہے، اختراع سے نئی زندگی پاتا ہے اور دنیا کے ساتھ مزید گہرے روابط استوار کرتے ہوئے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو چینی تہذیب کو ہزاروں برس بعد بھی متحرک، مؤثر اور زندہ رکھے ہوئے ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button