ماحول دوست جدیدیت کا ایک کامیاب نمونہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، توانائی کے بحران اور قدرتی وسائل کے تیزی سے استعمال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں پائیدار ترقی کا تصور عالمی سطح پر ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔ چین نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے جس جامع حکمت عملی کو اپنایا ہے، وہ آج دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ صاف فضاء، شفاف پانی، سرسبز جنگلات، قابل تجدید توانائی اور کم کاربن طرز زندگی کے فروغ کے ذریعے چین نہ صرف اپنے ماحول کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ ایک ایسے جدید ترقیاتی ماڈل کی تشکیل بھی کر رہا ہے جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف قدرتی وسائل کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ قوم کی پائیدار ترقی اور انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم فریضہ ہے۔ شی جن پھنگ کے ماحولیاتی تہذیب سے متعلق نظریات کی رہنمائی میں چین نے سبز ترقی کو قومی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں بھی سبز اور کم کاربن ترقی کو کلیدی اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔
2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے شی جن پھنگ نے مسلسل اس تصور کو فروغ دیا کہ "ماحولیات کا تحفظ دراصل پیداواری قوتوں کا تحفظ ہے اور ماحولیات کو بہتر بنانا پیداواری قوتوں کی ترقی کے مترادف ہے”۔ اسی سوچ کے تحت چین نے اقتصادی ترقی کو ماحول دوست بنیادوں پر استوار کرنے کی کوششوں میں تیزی لائی ہے۔
چین نے کاربن اخراج میں کمی اور کاربن نیوٹرل کے اہداف کو قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے مجموعی منصوبوں کا حصہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق سبز، کم کاربن اور گردشی معیشت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اقتصادی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
چین کی یہ حکمت عملی عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم مثال بن رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ایک صاف و شفاف دنیا کی تعمیر کے لیے چین کی کاوشیں عالمی پائیدار ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
چین کی ماحولیاتی صورتحال میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مسلسل دو برس سے سطحی پانی کے 90 فیصد سے زائد ذخائر اچھے معیار پر پورا اتر رہے ہیں۔ اسی طرح دریائے یانگسی اور دریائے زرد کے مرکزی دھاروں میں پانی کا معیار مسلسل بہتر سطح پر برقرار ہے۔
فضائی آلودگی کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں پی ایم 2.5 ذرات کی اوسط مقدار میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی ہے جبکہ صاف اور بہتر فضائی معیار کے دنوں کا تناسب 88 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جو سرکاری نگرانی کے آغاز کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
جنگلات کے رقبے میں اضافے کے حوالے سے بھی چین نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ برسوں میں دنیا بھر میں شامل ہونے والی نئی سبز اراضی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ چین میں پیدا ہوا جبکہ ملک میں جنگلات کا مجموعی تناسب 25 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔
یہ کامیابیاں صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ توانائی، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں جاری سبز تبدیلی کا بھی نتیجہ ہیں۔ ساحلی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں اور شمسی توانائی کے مراکز کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2026 میں پہلی مرتبہ شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی صلاحیت سے آگے نکل جائے گی۔
صنعتی شعبے میں 52 قومی سطح کے زیرو کاربن صنعتی پارکوں کی تعمیر کو تیز کیا جا رہا ہے جبکہ گرین فیکٹریوں اور ماحول دوست صنعتی پارکوں کا دائرہ کار مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بھی کم کاربن پیداوار اور ماحول دوست کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
روزمرہ زندگی میں بھی سبز طرز زندگی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد ماحول دوست ٹرانسپورٹ، بجلی اور پانی کے محتاط استعمال، خوراک کے ضیاع میں کمی، ایک بار استعمال ہونے والی اشیاء سے گریز اور ری سائیکلنگ جیسے اقدامات کو اپنی معمول کی زندگی کا حصہ بنا رہی ہے۔ ملک کے متعدد صوبے روزانہ پیدا ہونے والے ٹھوس فضلے کو لینڈ فل میں دفن کرنے کے عمل کو تقریباً ختم کر چکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں کاربن ترغیبی پالیسیاں بھی نافذ کی جا رہی ہیں۔
ماحول میں بہتری صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ صاف فضا، بہتر آبی وسائل اور سرسبز ماحول نے زندگی کے معیار کو بہتر بنایا ہے اور لوگوں میں خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔
چین اس وقت کاربن اخراج میں کمی، آلودگی کے خاتمے، ماحولیاتی بحالی اور معاشی ترقی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا رہا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران یہ کوششیں مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ یوں "خوبصورت چین” کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ملک ایک ایسی جدیدیت کی جانب گامزن ہے جس میں ترقی اور ماحولیات ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف چین کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید نمونہ فراہم کرتا ہے۔