مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم کا نیا سفر
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

جب دنیا بھر کے تعلیمی ادارے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایک بنیادی سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایسے دور میں تعلیم کا مقصد کیا ہوگا جب مشینیں انسانوں سے زیادہ تیزی اور گہرائی سے کئی کام انجام دینے لگیں۔ چین میں اس سوال پر عملی سطح پر غور شروع ہو چکا ہے اور تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
بیجنگ میں منعقدہ عالمی سمارٹ تعلیم کانفرنس میں مختلف ممالک کے ماہرین، پالیسی سازوں اور اساتذہ نے ذہین ٹیکنالوجی کے دور میں تعلیم کے نئے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ چین میں مصنوعی ذہانت اور تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل تعلیم کے ایسے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے جس میں تدریس کے مختلف مراحل اور تعلیمی سرگرمیوں میں ذہین ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے۔
چین نے ’’اے آئی پلس تعلیم‘‘ ایکشن پلان بھی شروع کیا ہے، جس میں نئی نسل کی تربیت، عملی استعمال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تعلیمی ماحول کی تشکیل پر توجہ دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے محدود تجربات سے آگے بڑھ کر اسے پورے تعلیمی نظام میں وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے اس سمت میں مختلف تجربات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو مختلف شعبوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے ایسے عملی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں طلبہ صرف مصنوعی ذہانت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بجائے اسے حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ایسے پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو قانون، کیمیا اور انسان نما ذہانت سمیت مختلف شعبوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ حقیقی زندگی سے متعلق حالات اور اعداد و شمار کے ذریعے طلبہ کی عملی صلاحیتیں بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں صرف ٹیکنالوجی کے صارف نہ ہوں بلکہ اس کے تخلیق کار بھی بن سکیں۔
تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا ایک اور اہم استعمال اساتذہ کی معاونت ہے۔ چین میں ایسے ذہین معاون نظام متعارف کرائے گئے ہیں جو سبق کی تیاری، طلبہ کی کارکردگی کے جائزے، والدین اور اسکول کے درمیان رابطے اور انتظامی امور میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کا مقصد اساتذہ کو بار بار دہرائے جانے والے کاغذی اور انتظامی کاموں سے نجات دلانا اور انہیں تدریس کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنا ہے۔
آزمائشی نتائج کے مطابق ایسے نظام سبق کی تیاری کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ اور معمول کے انتظامی کاموں میں کمی لانے میں مدد دے رہے ہیں۔ یوں اساتذہ ہر ہفتے کئی گھنٹے ایسے کاموں سے بچا سکتے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت انجام دے سکتی ہے، اور یہ وقت طلبہ کی رہنمائی اور تدریسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اساتذہ صرف مصنوعی ذہانت کے صارف نہیں رہ رہے بلکہ خود اس کے استعمال کے لیے نئے تعلیمی مواد اور تجربات تیار کر رہے ہیں۔ بعض اساتذہ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے سہ جہتی مجازی تجربات اور زمین کے مختلف حصوں کے باہمی تعلق کو سمجھانے والے تعلیمی ماڈل تیار کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی تدریس کے روایتی انداز کو تبدیل کرنے کے ساتھ اساتذہ کے کردار کو بھی نئے انداز میں تشکیل دے رہی ہے۔
تاہم مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کا عمل صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ عالمی سطح پر تعلیم کو آبادی میں تبدیلی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سرمایہ کاری کی کمی اور تعلیمی تربیت اور روزگار کی ضروریات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تعلیم کی رسائی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ایک مشترکہ عالمی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
اسی مقصد کے تحت عالمی سطح پر سمارٹ تعلیم کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے اسکولوں کے تجربات، کامیاب ماڈلز اور تعلیمی طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے نئے پلیٹ فارم بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اسکولوں کو ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے رہنمائی، پیشہ ورانہ جائزے اور عملی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
تاہم مصنوعی ذہانت کی تعلیم میں بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ ایک بڑا سوال تعلیمی مساوات کا بھی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی صرف وسائل رکھنے والے طبقات یا ترقی یافتہ علاقوں تک محدود رہی تو تعلیمی فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع ہر طالب علم اور ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں۔
تعلیمی مساوات صرف ٹیکنالوجی تک رسائی کا نام بھی نہیں۔ مختلف معاشروں کی زبانیں، ثقافتیں، روایات اور مقامی علمی ورثہ بھی محفوظ رہنا ضروری ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے نظام ہر جگہ ایک ہی انداز میں استعمال کیے گئے تو ثقافتی یکسانیت کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے مقامی زبانوں، تہذیبوں اور روایتی علم کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی ضرورتوں کے مطابق ذہین تعلیمی نظام تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت تعلیم کے روایتی تصور کو بدل رہی ہے، لیکن اس کا مقصد انسانی استاد اور طالب علم کے کردار کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ مستقبل کی تعلیم میں معلومات یاد رکھنے کے ساتھ سوال اٹھانے، تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کی صلاحیت زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔
چین میں جاری تجربات اس بات کی ایک مثال ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو کلاس روم، اساتذہ کی معاونت اور عملی تربیت سے جوڑ کر تعلیم کے نئے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں اصل کامیابی اس بات سے طے ہوگی کہ جدید ٹیکنالوجی کو انسانی صلاحیتوں، تعلیمی مساوات اور ثقافتی تنوع کے ساتھ کس طرح متوازن کیا جاتا ہے۔