کالم

بلاگ

  • بلاگboao2

    چین کا غیر یقینی دنیا میں تعاون اور امید کا پیغام

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی حالات، سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے عالمی نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں وہ پلیٹ فارمز خاص اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کریں۔ اسی تناظر میں چین کے خوبصورت جزیرے ہائی نان کے ساحلی قصبے بواؤ میں منعقد ہونے والا بواؤ ایشیائی فورم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما، ماہرین اور کاروباری شخصیات ایک بہتر اور متوازن مستقبل پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کا اجتماعی حل تلاش کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا میں تحفظ پسندی اور یکطرفہ پالیسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے میں اس فورم کو امید، اعتماد اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں ہونے والی گفتگو اس بات کا اظہار ہے کہ اختلافات کے باوجود تعاون کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ اگر اس فورم کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ …

  • چین کے معقول معاشی اہداف

    Economical targets

    چین کی جانب سے ابھی حال ہی میں پیش کردہ ورک رپورٹ میں 2023 کے حوالے سے اپنے اہم معاشی اہداف کا اعلان کیا گیا ہے جسے مختلف حلقوں نے معقول اور مناسب قرار دیا ہے

  • چین کے 2023 کے نمایاں اہداف ، ایک جائزہ

    China Session

    چین کی اہم ترین سیاسی سرگرمی "دو اجلاس" اس وقت بیجنگ میں جاری ہیں جس پر دنیا اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے

  • چین کے کھلے پن کا سیاسی عزم

    China

    چین کے "دو اجلاسوں" کے حوالے سے عالمی برادری نے ایک بار پھر کچھ اہم موضوعات کی جانب اپنی نظریں مرکوز کر لی ہیں جن پر حالیہ دنوں  تبادلہ خیال متوقع ہے

  • چین "انوویشن” کی اہم طاقت

    Huawei

    ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (ڈبلیو آئی پی او) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین 2022 میں بین الاقوامی پیٹنٹ درخواستوں کے حجم کے اعتبار سے دنیا میں سب سے آگے ہے

  • چین کے "دو اجلاس”  اور دنیا کی امیدیں

    چین

    چین کی سب سے بڑی سالانہ سیاسی سرگرمی " دو  اجلاس" چار اور پانچ مارچ سے شروع ہو رہے ہیں۔

  • چین کا تنازعات کے سیاسی حل میں تعمیری کردار

    چین

    یوکرین بحران کو ایک سال ہو چکا ہے اور ہنوز یہ مسئلہ حل طلب ہے۔اس تنازع کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ اور خوراک کی مارکیٹ پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں