امریکہ کی ایران پر حملے کے بارے اسرائیلی منصوبے پر خاموشی ، امریکہ تنازعہ کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے،ترجمان وائٹ ہائوس
لندن،واشنگٹن(آن لائن)برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیگا تاہم دبائو کے لئے ایران پر حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جبکہ امریکہ نے بھی ایران پر حملے بارے اسرائیلی منصوبے پر خاموشی اختیار کر لی ہے ،برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ برطانیہ ایران کے جوہری تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیگا۔ لیکن تہران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی تنازعے کا بہترین حل ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اوباما انتظامیہ تہران پر حملے کی تیاری میں تیزی لاسکتی ہے۔ اخبار کے مطابق ایران پر حملے کی صورت میں برطانیہ امریکا کی مدد کریگا،دوسری جانب وائٹ ہائوس کی خاتون ترجمان جے کارونے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے منصوبے بارے کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کرینگی ،انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اب بھی کوشش ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کا بھارتی حل نکالا جائے ،واضح رہے کہ ایک غیر ملکی اخبار نے دعوی کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر حملے کے لئے اپنی کابینہ کو اعتماد میں لینا شروع کر دیا ہے اور انہوں نے وزیر دفاع الیہود باراک کے ہمراہ ان ممبران کی حمایت حاصل کی کوششیں شروع کر دی ہیں جو ایران پر حملے کے خلاف ہیں، ترجمان وائٹ ہائوس سے جب اس رپورٹ کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس قسم کی قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔۔