بیجنگ میں تیانانمن شاہراہ پر مظاہروں کو کچلنے کی23 پر مظاہرہ

ہانگ کانگ(اے ایف پی/آن لائن)بیجنگ میں تیانانمن شاہراہ پر مظاہروں کو کچلنے کی23ویں برسی کے موقع پر اتوار کو وسطی ہانگ کانگ میں سینکڑوں جمہوریت پسند کارکنوں نے مارچ کیا ۔
جنوبی چینی شہر میں اس حوالے سے کارکنوں نے یہ پہلا مارچ کیا جو حکومتی صدر دفاتر کی طرف کیا گیا ۔
سینکڑوں شرکاء نے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ بیجنگ کی حامی انتخابی کمیٹی کی طرف سے چنے گئے منتخب چیف ایگزیکٹو لیونگ چن ژنگ جو ہانگ کانگ کے سابق چیف ڈونلڈتسانگ کی جگہ فروری میں سنبھالیں گے جمہوری آزادیاں واپس لے لیں گے ۔
مارچ میں شریک یونیورسٹی کی طالبہ کیتھرین بولڈاؤن نے کہا’’ہم نہیں چاہتے کہ چینی حکومت ہماری سربراہ ہو‘‘۔
قانون ساز رکن لیونگ کواک ہنگ نے مزید کہا’’اگر چین میں یک جماعتی حکمرانی برقرار رہے گی تو ہم مارچ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے‘‘۔
1989ء میں تین اور چار جون کی درمیانی شب وسطی بیجنگ میں اس شاہراہ کو خالی کرانے کے لئے ٹینکوں کے ہمراہ فوجی اس علاقے میں داخل ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اس شاہراہ پر جمہوریت کی حمایت میں یہ غیر معمولی مظاہرے چھ ہفتے تک جاری رہے تھے۔
اس تحریک کو انقلابی بغاوت کے مقابلے میں تحریک قراردیا گیا اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک فیصلے میں اس کے لئے نرم زبان استعمال کی گئی ۔
ہانگ کانگ1997ء میں واپس چینی حکمرانی میں آنے سے قبل برطانوی کالونی تھا اور اسے خود مختار علاقے کی حیثیت حاصل تھی جس کا اپنا آئین تھا اور اس میں ایسے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دی گئی تھی جو ملک کے بڑے حصے میں لوگوں کو حاصل نہیں۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو (DX Times Archive) یہ اردو ٹوڈے کا ایک خصوصی آرکائیو سیکشن ہے، جہاں ڈی ایکس ٹائمز کی تاریخی خبروں اور… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button