خلیج میں زیرِ آب ڈرون کی تعیناتی
واشنگٹن: امریکہ نے خلیج کے علاقے میں روبوٹ آبدوزوں کا ایک بیڑہ تعینات کردیا تاکہ ایران کوبارودی سرنگیں بچھا کراسے آبنائے ہرمزکی بندش سے روکا جاسکے۔
امریکی بحریہ کے ایک افسر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سی فوکس نامی ڈرونز کو پانچویں بیڑے میں شامل کیا گیا ہے جس کا دائرہ کار خلیجِ فارس اور بحیرہ عرب ہے۔
سمندر کی گہرائی میں کام کرنے والے اس ڈرون کی لمبائی چار فٹ ہے جو کیمرے اور سونار سے لیس ہے اور اسے سطح پر موجود کسی کشتی یا جہاز سے تار کے زریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اسے بنانے والے جرمن ادارے ، اٹلس الیکٹرونکس کے مطابق، یہ اپنے ساتھ دھماکہ خیز مواد تین ہزار دوسو فٹ دوری تک لے جا کر پانی میں موجود بارودی سرنگوں کو تباہ کرسکتا ہے۔
بحریہ کے ایک افسر نے بتایا کہ سی فوکس آبی ڈرون کو خلیج میں بارودی سرنگوں سے محفوظ بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کے راستے دنیا بھر میں تیل کی بیس فیصد تجارت ہوتی ہے ۔ اس کی اہمیت اور بندش کے خطرات اس وقت مزید بڑھ گئے جب ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کیا اور مغربی اقوام نے اس کے تیل کی برآمدات کو بند کرنے کا اشارہ دیا تو جواباً ایران نے آبنائے ہرمز کا راستہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ردِ عمل میں امریکہ نے علاقے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا یا ہے۔ جون کی شروعات میں اس نے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے چار جہاز روانہ کئے جبکہ ایسے چار جہاز پہلے ہی موجود تھے۔
امریکی بحریہ نے ایم ایچ ففٹی تھری سی اسٹالین ہیلی کاپٹر اور ایک قدرے پُرانی جنگی کشتی یو ایس ایس پونس بھی ہے جنہیں بحرین میں تعینات کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے کے پاس تقریباً دو ہزار سمندری بارودی سرنگیں ہیں جنہیں بچھانے کے لئے ایک درجن آبدوزیں یا کچھ کشتیاں ہیں۔
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ منٹوں میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرسکتا ہے۔
ایرانی انقلابی گارڈ کے کمانڈر عامر علی حاجی زادے کے مطابق تمام امریکی اڈے ہمارے میزائلوں کی زد میں ہیں اور اسرائیل بھی ایک اچھا ہدف ہوسکتا ہے۔