شکارپور: سیما بھیو منظر پر آگئی ، سردار بابل خان کے ہمراہ پریس کانفرنس
شکارپور : آج یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالف سیاسی رہنماؤں کو چک واقعے پر سیاست کھیلنا بند کریں۔ کیونکہ یہ ایک شدید قسم کا واقعہ ہے۔ اس کو قانونی اور برادری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے.
انہوں نے چک واقعے کی سختی سے مذمت کی اور اس واقعے میں قتل ہونے والے بیگناہ تین ہندوں افراد پر بھی سخت رنج اور غم ہوا ہے.
ایک سوال کے جواب میں میر بابل خان بھیو نے بتایا کہ وہ اس قسم کے تنازے کو حل کرنے کیلئے ہندو برادری اور متاثر بھیو برادری کے درمیان فیصلا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس میں دیر ہوجانے پر چند شر پسندوں نے موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو برادری پر فائرنگ کرکے تین بیگناہ افراد کو قتل کردیا.
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو برادری اور بھیا برادری کے مختلف معاملوں کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چک واقعے میں صرف چار ملزمان ملوث ہیں جن میں قاضی غلام محمد بھیو اور دیگر تین بھیو برادری کے افراد شامل ہیں ان کی گرفتاری کیلئے وہ اپنے آدمیوں کے ہمراہ پولیس کی مدد میں کچے کے علاقوں چھاپے مار رہے ہیں۔ اور توقع ظاہر کی کہ یہ رپوش چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار ہوجائینگے.
انہوں نے یہ بھی مطالبا کیا ہے کہ باقی افراد کو رہا کرنا چاہئیے اور بھیو برادری کے دیگر بیگناہ افراد کو تنگ نہ کیا جائے اور ان کی املاک کو جلایا نہ جائے.
اس موقعے پر بھیہ برادری کی متاثر لڑکی مس سیما نے صحافیوں کو بتایا کہ ہندو برادری کے چار لڑکوں نے گلی سے گذرتے ہوئے زبردستی اوطاق میں لے گئے اور وہاں انہوں نے اس کا منہ بند کرکے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اور اس کے فوٹو اور مووی بنائی اور دھمکی دی کہ اگر یہ بات اپنے گھروالوں کو بتائی تو تجھے قتل کردینگے اور تمہارے خاندان کو بدنام کرینگے.
اس نے یہ بھی کہا کہ چک فائرنگ میں بھیہ برادری کا کوئی بھی آدمی ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبا کیا ہے کہ اس کو اور اس کے گھروالوں کو تحفظ دیا جائے.