فیصلے پر عوامی رائے معلوم کریں گے، پارلیمنٹ میں بحث کرائیں گے : صدر آصف علی زرداری

اسلام آباد ، پیپلزپارٹی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں یوسف رضا گیلانی نے بھی شرکت کی۔ پارلیمانی پارٹی کا یوسف رضا گیلانی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اختیار صدر زرداری کو دیدیا۔ اجلاس میں نئے وزیراعظم کے نام کیلئے تجاویز نہیں مانگی گئیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ جمہوریت کے تسلسل کیلئے عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کیا، ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ہر کردار ادا کریں گے، زرداری نے کہا وزیراعظم کا فیصلہ میں کروں گا جو ملکی مفاد میں ہو گا، عدالتی فیصلے پر تحفظات ہیں لیکن جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں، فیصلے پر عوامی رائے معلوم کریں گے، پارلیمنٹ میں بحث کرائیں گے، جمہوریت کی خاطر دوسرا وزیراعظم لایا جا رہا ہے، فرد واحد نہیں ادارے مقدم ہیں۔ اداروں کو بچانا اور ان کی مضبوطی کیلئے کام کرنا ہے، ان کے درمیان تصادم نہیں چاہتے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، حالات نہایت خراب ہیں ہم نے ملک کو بچانا ہے، عدلیہ کے فیصلے پر آئندہ حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے ہاتھ اٹھاکر زرداری کو وزیراعظم نامزد کرنے کا اختیار دیا اور ان پر اظہار اعتماد کیا۔ صدر نے کہا کہ چور دروازوں سے پارلیمنٹ کو ختم کرنے کا دور ہمیشہ کیلئے اب گزر چکا ہے، منتخب پارلیمنٹ کو گھر بھیجنے کیلئے پچھلے دروازے کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، پیپلزپارٹی کا راستہ سازشوں سے نہیں روکا جا سکتا، عوام انتہا پسندوں کی جانب سے مسلط کی گئی کسی منزل کو قبول نہیں کریں گے، بے نظیر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انتہاپسندی، آمریت کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی، مختلف بہانوں سے پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا جانتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ قبول نہ کرتے تو خلا پیدا ہو جاتا، عدالت کا فیصلہ احتجاجاً قبول کیا، ملک کو بحرانی کیفیت سے بچانے کیلئے ایسا کیا اس فیصلے کو پارلیمنٹ میں زیربحث لائیں گے، صدر کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلے پر تحفظات ہیں، عوامی رائے معلوم کرینگے، عدلیہ کے فیصلے پر آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائیگی۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مخدوم شہاب الدین کے نام پر اتفاق کر لیا گیا ہے تاہم اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہاکہ عدلیہ کا کام پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہے۔ دریں اثناءاے پی پی کے مطابق پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جمہوری عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا، آئین کے مطابق جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے مناسب فیصلے کرنے کیلئے پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں آئینی سپریم کورٹ علیحدہ بنانے کی تجویز دی گئی، میثاق جمہوریت میں آئینی سپریم کورٹ علیحدہ بنانے کی شق شامل ہے۔ آئینی سپریم کورٹ علیحدہ بنانے کی تجویز سابق وزیر مملکت طارق انیس باجوہ نے دی۔ اعتزاز احسن نے اس موقع پر کہاکہ آئینی سپریم کورٹ کے علیحدہ قیام کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔ آئینی ترمیم کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں 2تہائی اکثریت چاہئے۔ ندیم چن نے رائے دی کہ بجلی بحران حل کرلیا جائے تو مسلم لیگ (ن) پنجاب میں نہیں جیت سکے گی۔ صدر نے وزیر پانی و بجلی احمد مختار سے سوال کیا کہ بجلی کا بحران کب تک حل ہو گا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آئندہ 3ماہ میں بجلی کا بحران حل ہو سکتا ہے۔ صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے والے ادارے کا فرد واحد بھی چلا جائے گا۔ دریں اثناءپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے ارکان کی اکثریت نے عدلیہ کے فیصلے اور کردار پر تنقید کی۔ ارکان نے رائے دی ہے کہ عدلیہ کے کردار کے تعین کیلئے آئین میں ترامیم کی جائیں، عدلیہ کا کام پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان کا ایوان صدر میں منہ بھی میٹھا کرایا گیا۔ مخدوم شہاب وزارت عظمیٰ کیلئے اس وقت مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ پارلیمانی پارٹی میں ارکان انہیں مبارکباد دیتے رہے اور وہ بھی فرداً فرداً ارکان سے ملتے رہے۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی اکثریت نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا عدلیہ کا کام پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہے، ارکان نے رائے دی کہ عدلیہ کے کردار کے تعین کیلئے آئین میں ترامیم کی جائیں۔
اسلام آباد (آن لائن) صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانا جانتے ہیں اور کسی کو مختلف حیلے بہانوں سے پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ بات صدر زرداری نے شہید بےنظیر بھٹو کی 59ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہی ہے۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے عوام مذہب یا کسی بھی دیگر نام سے شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کی جانب سے اپنے اوپر مسلط کردہ کسی تقدیر کو نہیں بھگتیں گے، صدر نے کہا کہ میں محترمہ بےنظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی روایات اور ایک جدید اور ہمہ گیر سماج کے قیام کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں، جہاں پر ہر شخص کو اپنی روایات اور تصورات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو اور ان اصولوں کے لئے محترمہ نے اپنی پوری زندگی جدوجہد کی اور جب وقت آیا تو اپنی جان تک بھی قربان کر دی، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو نے شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کا ڈٹ کر دلیری سے مقابلہ کیا جو عوام پر ظلم و جبر کے ذریعے اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اسی جدوجہد میں اس نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا لیکن پارلیمنٹ کی بالادستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو (DX Times Archive) یہ اردو ٹوڈے کا ایک خصوصی آرکائیو سیکشن ہے، جہاں ڈی ایکس ٹائمز کی تاریخی خبروں اور… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button