محفوظ، آرام دہ اور مستقبل میں نقل و حمل کی نئی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام نقل و حمل کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ جہاں سڑکوں پر خودکار گاڑیوں کی آزمائش جاری ہے، وہیں چین نے ریل کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ تیز رفتار ریل کے میدان میں چین نہ صرف دنیا کا رہنما بن چکا ہے بلکہ اس نے ذہین اور خودکار ریل نظام کی ترقی میں بھی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ جدید ٹرین کنٹرول ٹیکنالوجی، خودکار آپریشن اور انتہائی محفوظ نظام کی بدولت چین کی تیز رفتار ریل آج جدید نقل و حمل کی ایک کامیاب علامت بن چکی ہے۔
30 دسمبر 2019 کو بیجنگ۔ژانگ جیا کھو تیز رفتار ریلوے لائن باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوئی، جو 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی دنیا کی پہلی ذہین تیز رفتار ریلوے قرار دی گئی۔ اس ریلوے لائن میں ڈرائیور کی نگرانی کے ساتھ خودکار ڈرائیونگ نظام استعمال کیا گیا، جس نے ریلوے ٹیکنالوجی میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
دوسری جانب چین میں سڑکوں پر ذہین ڈرائیونگ اور خودکار گاڑیوں کی ترقی بھی تیزی سے جاری ہے۔ ملک میں ذہین ڈرائیونگ سے لیس مسافر گاڑیوں کی شرح 68 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ خودکار گاڑیوں کی آزمائش کے لیے کھولی جانے والی سڑکوں کی مجموعی لمبائی 28 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگرچہ ریلوے اور سڑک دونوں شعبے ذہین ڈرائیونگ سے وابستہ ہیں، لیکن ان کی تکنیکی پیچیدگی اور آپریشنل ماحول میں بنیادی فرق موجود ہے۔
ریلوے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتار ریل میں خودکار نظام کی تیاری عام گاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ انتہائی درست انداز میں ٹرین کو مطلوبہ مقام پر روکنا ہے۔ تیز رفتار ریل میں معمولی سی غلطی بھی بڑے نتائج کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ہر لمحے ہزاروں معلومات کا تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
بیجنگ۔ژانگ جیا کھو تیز رفتار ریلوے لائن میں چینی ٹرین کنٹرول سسٹم لیول تھری (سی ٹی سی ایس۔3) نصب کیا گیا ہے، جس کے ساتھ جدید ریڈیو بلاک سینٹرز اور خودکار تحفظی نظام کام کرتے ہیں۔ یہ تمام آلات مل کر ایک ایسے "مرکزی اعصابی نظام” کی طرح کام کرتے ہیں جو ٹرین اور زمینی کنٹرول مراکز کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھتا ہے اور ہر لمحے معلومات کا تبادلہ ممکن بناتا ہے۔
تیز رفتار ریل کی وقت کی پابندی اور حفاظت کے پیچھے یہی جدید کنٹرول نظام کارفرما ہے۔ یہ نظام نہ صرف ٹرینوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھتا ہے بلکہ رفتار کو بھی مسلسل کنٹرول کرتا رہتا ہے۔ جیسے جیسے رفتار بڑھتی ہے، انسانی نگرانی اکیلے کافی نہیں رہتی اور خودکار نظام کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب ایک تیز رفتار ٹرین 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو تو اسے مکمل طور پر روکنے کے لیے تقریباً 20 کلومیٹر کا فاصلہ درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے کنٹرول سسٹم کو ٹرین کے سامنے کئی کلومیٹر تک موجود تمام معلومات مسلسل حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ موجودہ نظام تقریباً 32 کلومیٹر آگے تک کی معلومات حاصل کرکے ہر حصے کے لیے محفوظ رفتار کا تعین کرتا ہے۔
صرف فاصلہ ہی نہیں بلکہ پٹری کا ڈھلوانی ہونا، موڑ، سوئچنگ پوائنٹس اور دیگر عوامل بھی رفتار کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ٹرین کسی موڑ یا سوئچ پر حد سے زیادہ رفتار کے ساتھ داخل ہو تو حادثے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تمام معلومات کو یکجا کرکے ایک محفوظ رفتار کا تعین کیا جاتا ہے تاکہ سفر مکمل طور پر محفوظ رہے۔
چین کے تیز رفتار ریلوے نظام کی ایک اہم خصوصیت "فیل سیف” اصول ہے۔ اس اصول کے تحت اگر کسی بھی مرحلے پر رابطہ منقطع ہو جائے یا معلومات کی درستگی پر شبہ پیدا ہو تو نظام فوری طور پر حفاظتی اقدامات اختیار کرتا ہے۔ اگر مخصوص مدت تک رابطہ بحال نہ ہو تو تمام معلومات حذف کر دی جاتی ہیں اور ٹرین کو ہنگامی بریک لگا کر روک دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے محفوظ ترین ریلوے نظاموں میں چینی تیز رفتار ریل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
اگرچہ زیادہ تر آپریشن خودکار انداز میں انجام پاتا ہے، تاہم انسانی نگرانی اب بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خودکار نظام ڈرائیور کے کام کا بڑا حصہ سنبھال لیتا ہے اور تقریباً 90 فیصد کارروائیاں خود انجام دے سکتا ہے، لیکن بعض اہم مراحل پر انسانی تصدیق اور نگرانی برقرار رکھی جاتی ہے تاکہ حفاظت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذہین ٹرین کنٹرول نظام کا ایک بڑا فائدہ سفر میں آرام اور توانائی کی بچت بھی ہے۔ انسانی ڈرائیونگ میں رفتار کے اتار چڑھاؤ اور بار بار بریک لگانے سے نہ صرف توانائی ضائع ہوتی ہے بلکہ مسافروں کو بھی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خودکار نظام تجربہ کار ڈرائیوروں کی حکمت عملیوں کو الگورتھمز میں شامل کرکے ایسی رفتار کا تعین کرتا ہے جو وقت کی پابندی، آرام دہ سفر اور توانائی کی بچت کے درمیان بہترین توازن پیدا کرے۔
مستقبل میں چین "چار نیٹ ورکس کے انضمام” کے تصور پر بھی کام کر رہا ہے، جس کے تحت مرکزی ریلوے، بین الاضلاعی ریل، مضافاتی ریل اور شہری ریل نظام کو ایک مربوط نیٹ ورک میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سے مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہوگا اور مسافروں کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔
چین کی تیز رفتار ریل کی کامیابی صرف جدید ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور محفوظ آپریشن کو یکجا کرکے نقل و حمل کے ایک ایسے ماڈل کی تشکیل ممکن ہے جو تیز، محفوظ، آرام دہ اور ماحول دوست ہو۔ مستقبل میں یہی ذہین ریلوے نظام عالمی سطح پر جدید نقل و حمل کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتے ہیں۔