نواب اکبر خان بگٹی کے قاتلوں کوپوری قوم جانتی ہے،سینیٹرڈاکٹر مالک بلوچ
کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے صدر و سینیٹرڈاکٹر مالک بلوچ نے کہاہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کے قاتلوں کوپوری قوم جانتی ہے مگر نہ جانے کیوں حکمران ان کے قتل کی تحقیقات کے لئے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے”آن لائن “ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کاکہناتھاکہ حکومت کی جانب سے شہید نواب محمداکبر خان بگٹی کے مقدمہ قتل کی تحقیقات کے لئے حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینا سمجھ سے بالاتر ہے پوری قوم جانتی ہے کہ نواب محمد اکبرخان بگٹی کے قتل میں پرویز مشرف اوراس کے حواری شامل ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ حکومت قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے کمیٹیاں تشکیل دینے پر زور دے رہی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکمران بلوچستان کامسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں کیونکہ بلوچستان کامسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک ممتاز قوم پرست بزرگ رہنما شہید نواب محمداکبرخان بگٹی کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیاجائے ان کاکہناتھاکہ کمیٹیوں کی تشکیل کسی بھی مسئلے کو تعطل میںڈالنے کا حکومت کا بہترین حربہ ہے جسے حکمران گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے استعمال کرچکے ہیں ان کاکہناتھاکہ کمیٹی میں جن لوگوں کو شامل کیاگیاہے معاملہ ان کے وزن سے اوپر کاہے اس حوالے سے کمیٹی کے ممبران کچھ نہیں کرسکتے اوراگر انہوںنے رپورٹ مرتب کرکے حکومت کوپیش کربھی دی تو رپورٹ پرعملدرآمد اس وقت تک ممکن نہیں ہواجب حکمران اوراسٹیبلشمٹ اپنے مزاج میں تبدیلی نہیں لاتے اوراس بات پر اکتفا نہیں کرتے کہ اب نواب محمداکبرخان بگٹی کے قاتلوں کو گرفتار کیاجاناچاہئیے کیونکہ اگر اسٹیبلشمنٹ اورحکومت چاہئے تو مشرف کو گرفتارکرسکتی ہے ان کاکہناتھاکہ بلوچستان میںاس وقت امن وامان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے آئے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں جبکہ ماورائے آئین وقانون گرفتاریوں ‘ گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کولاپتہ کرنے کاعمل بتدریج جاری ہے ایسے حالات میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی جانب سے مثالی امن کے بیانات باعث حیرت ہے کہ انہیں بلوچستان میں گرتی ہوئی لاشیں اوراپنے پیاروں کو ڈھونڈتے ہوئے لوگ کیوں نظر نہیں آتے اگرآتے ہیں توان حالات کو وہ مثالی امن کا نام کیسے د ے سکتے ہیں ہمیں اوربلوچستان میں رہنے والے لوگوں کو امن کے اس نئی شکل کا تعارف رحمن ملک نے ہی کروایاہے ان کاکہناتھاکہ ہم نے بارہا کہاہے کہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے بلوچ رہنمائوںسے مذاکرات کادور شروع کیاجاناچاہئیے تاہم اس کے لئے سب سے پہلے بات چیت کاماحول ہونا بنیادی شرط ہے کیونکہ جب تک بلوچستان میں مذاکرات کاماحول پیدا نہیں کیاجاتا حالات کوبہتر بنانے کی کسی بھی خواب کوشرمندہ تعبیر کرنا ناممکن ہے ہم ہراس اقدام کا خیر مقدم کریں گے جو نیک نیتی سے بلوچستان کے حالات کوبہتر بنانے کے لئے اٹھایاجائیگا تاہم بدنیتی پر مبنی کسی بھی عمل کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا ۔