والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نا پلانے پر افسوسناک ہے: صوبائی وزیر
حیدرآباد : صوبائی وزیر ماہی گیری زاہد علی بھرگڑی نے سندھ میں پولیو کے 27 کیسز ظاہر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی کی حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوام کے تعاون سے پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دے دی ہے ۔ انہوں نے والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نا پلانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ اس بات کا اظہار انہوں نے آج تعلقہ ہسپتال پریٹ آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم( ہینڈز) کی جانب سے ای ڈی او ہیلتھ حیدرآباد کو پولیو کی کٹ اور دیگر سامان حوالے کرنے والی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزیر نے محکمہ صحت کے افسران ، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے مشترکہ تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں جب کہ اس ضمن میں والدین کا تعاون بھی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ حکومت تمام فریقین کو اس نیکی کے کام میں ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے جب کہ میڈیا کے ذریعے انسداد پولیو مہم کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو اس مہم کے متعلق مکمل آگاہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیہی و شہری علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے سو فیصد نتائج حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں جب کہ ضلع حیدرآباد میں انسداد پولیو مہم اور اس کی تشہیر کے لیے وہ صوبائی وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ اس مد میں ضلع حیدرآباد کو خصوصی گرانٹ فراہم کروا کر عوام میں انسداد پولیو مہم کے متعلق شعور پیدا کیا جا سکے ۔ انہوں نے غیر سرکاری تنظیم ہینڈز کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے مطلوبہ ضروری سامان اور افراد ی قوت فراہم کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون حکومت کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کی ضمانت ہے اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے نمایندے ڈاکٹر حشام نے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیو وائر س موجود ہے اس لیے عالمی برادری سمیت مختلف عالمی ادارے اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم انہوں نے عوام کو اپیل کی کہ وہ نو زائدہ بچوں کو پانچ سالوں تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں اور ضروری حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ ایک خوش حال مستقبل کی بنیاد قائم کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس سال پولیو کیسز کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے اس لیے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کی انتہائی ضرورت ہے اس موقع پر ای ڈی او صحت بخش علی پتافی ، ہینڈز کے نمایندے عبدالرزاق عمرانی ، ڈاکٹر عبدالستار ، ڈاکٹر شریف راٹھور اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔