پاکستان کارڈ سينٹرز جیالوں اور مقامی پولیس اہلکاروں کی ملی بھگت سے ایجنٹ مافیا کا راج، کارڈ کے حصول پر رشوت
دوڑ۔پاکستان کارڈ کا حصول اور کیش کرانے میں شہریوں کو دشواریوں کا سامنا۔بینک عملہ کے ہاتھوں شہری پریشان۔دوڑ میں کارڈ کیش کرنے کا سلسلہ بند۔تفصیلات کے مطابق ضلع بینظیرآباد کی تحصیل دوڑ میں پاکستان کارڈ کے حصول اور پھر اسے کیش کرانے کے سلسلے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔سینٹر پر جیالوں اور مقامی پولیس اہلکاروں کی ملی بھگت سے ایجنٹ مافیا کا راج ہے۔شہری دن بھر قطاروں میں کھڑا رہتے ہیںجبکہ رشوت دینے والے افراد کو بینک عملہ کی ملی بھگت سے جلدی کارڈ مل جاتے ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی بینک کی جانب سے یومیہ اجرت پر بھرتی کئے گئے مقامی نوجوان رات کو ایجنٹوں سے بھاری تعداد میں لوگوں کے شناختی کارڈ اور سلپ حاصل کرلیتے ہیں اور فی کارڈ تین سو تا پانچ سو روپے وصول کرکے اے ٹی ایم کارڈ بناکر دے دیئے جاتے ہیں جبکہ ایجنٹ اور پولیس اہلکار لوگوں سے ایک ہزار روپے تا پندرہ سو روپے وصول کر رہے ہیں۔شہریوں نے بتایا کہ سینٹر پر تعنیات بینک و نادرا عملہ کی خاطر و تواضع پر ایجنٹ حضرات روزانہ ہزاروں روپے خرچ کررہے ہیں جبکہ قطاروں میں دن بھر کھڑے افراد پینے کے لئے پانی کو ترستے رہتے ہیں۔شہریوں نے الزام عائدکیا کہ بینک کے کائونٹر پر دن بھر غیر متعلقہ افراد بیٹھے نظر آتے ہیں بینک عملہ کی جانب سے اے ٹی ایم کارڈ حاصل کرنے والے افراد کو ایک الگ سلپ بھی دی جارہی ہے کہ کارڈ کیش نہ ہونے کی صورت میں نادرا سے فنگر پرنٹس کی تصدیق کرائیں جسکے سبب شہریوں کی پریشانیوں میں مذید اصافہ ہوگیا ہے اور روزانہ سینکڑوں شہری نادرا آفس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ نادرا عملہ نے فنگر پرنٹس کی تصدیق کو کمائی کا زریعہ بنالیا ہے نادرا سینٹر آنے والے شہریوں کہ ایک ہزار روپے کا ٹوکن حاصل کرکے نیا شناختی کارڈ بنوانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔جسکے سبب جلدی کارڈ آنے کے جھانسے میں آکر نیا شناختی کارڈ بنوانے پر مجبور ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہزار روپے خرچ کرنے کے باوجود وہ گزشتہ پندرہ روز سے نادرا آفس کے چکر لگا رہے ہیں مگر ابھی تک انکے کارڈ نہیں مل سکے ہیں معلوم ہوا ہے کہ نادرا عملہ نئے شناختی کارڈ بنوانے والے افراد کا ریکارڈ سکھر آفس بھیجنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے معلوم ہوا ہے کہ نادرا دوڑ کی جانب سے سکھر آفس بھیجے گئے ریکارڈ کے فارموں کے ٹوکن کی فیس کے حساب سے روزانہ مقامی بینک میں رقم جمع کرائی جاتی ہے زرائع کے مطابق نہ بھیجے گئے فارموں کی رقم کا ایک بڑا حصہ نادرا دوڑ کے بدعنوان اہلکاروں کی جیب میں جارہا ہے اور جب ان فارموں کے ٹوکن حاصل کرنے والے افراد نادرا دفتر آتے ہیں تو انہیں مختلف بہانے بناکر ٹال دیا جاتا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کوایک ہزار روپے وصول کرکے ٹوکن اور تصدیق کے لئے جو فارم دیا جاتا ہے اس میں اس قدر نقص بتائے جاتے ہیں کہ جنہیں دور کرنے کے سلسلے میں دیہاتی کئی کئی روز تک دربدر ہوتے رہتے ہیں اور اگر کوئی ان نقص کو دور کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو اسے ٹوکن کے ٹائم ختم ہونے اور نیا ٹوکن حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔جبکہ تین سو اور دو سو روپے کا ٹوکن حاصل کرکے نیا کارڈ بنوانے والے افراد گزشتہ کئی روز سے چکر کاٹ رہے ہیں جبکہ مقامی بینک کی جانب سے دوڑ میں اے ٹی ایم کارڈ کیش کرنے کی سہولت ختم کردی گئی ہے جسکے سبب شہری کرایہ کی مد میں اخراجات کرکے بیرون شہر جانے پر مجبور ہیں شہریوں نے حکومت سے فوری کا روائی کا مطالبہ کیا ہے