ہندوستانی عدالت کا من موہن سنگھ سے جواب طلب

کولکتہ: ہندوستان کی ریاست کولکتہ کی ہائی کورٹ نے عوامی مفاد کے ایک مقدمے میں چند برس قبل دیے گئے اپنے فیصلے کے منافی کارروائی پر، وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے جواب مانگ لیا ہے۔
ہندوستانی اخبار ‘دی ہندو’ کی ایک خبر کے مطابق کولکتہ ہائی کورٹ نے وزیرِ اعظم سمیت مقامی یونیورسٹی وسوا بھارتی سنتنی کیتن کے دیگر افسران و اہلکاروں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم اس یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں اور اسی حیثیت میں انہیں نوٹس جاری کیا گیاہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ اقدام وسوا یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر ایک طالبہ کو سزا دیے جانے کے واقعے کے بعد دائر درخواست پر کیا۔ درخواست مقامی وکیل نے دائر کی تھی۔
اخبار کے مطابق ہاسٹل میں مقیم پانچ سال کی طالبہ کو بستر گیلا کرنے کی پاداش میں ہاسٹل وارڈن نے بطور سزا زبردستی پیشاب پینے پر مجبور کیا۔
وکیل تپاس بھنجا نے سزا کا معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد اس کے خلاف عوامی مفاد کے مقدمے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس طرح کی سزا دینا ریاستی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ سن دو ہزار چار میں دیے گئے ریاستی ہائی کورٹ کے فیصلے میں بچوں کو سخت سزا دینے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد درخواست سماعت کے لیے منظور کی اور وزیراعظم سمیت دیگر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
دی ہندو کے مطابق وزیرِ اعظم نے کچھ عرصہ قبل مرکزی انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت سے اس واقعے کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی، جو خبر کے مطابق یونیورسٹی نے جمع کرادی تھی۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو

ڈی ایکس ٹائمز آرکائیو (DX Times Archive) یہ اردو ٹوڈے کا ایک خصوصی آرکائیو سیکشن ہے، جہاں ڈی ایکس ٹائمز کی تاریخی خبروں اور… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button