غذائی تحفظ، دیہی خوشحالی اور جدید زراعت کی جانب ایک بڑا قدم
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں، غذائی تحفظ کے خدشات اور زرعی وسائل پر بڑھتے دباؤ نے زراعت کو اکیسویں صدی کے اہم ترین شعبوں میں شامل کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے زرعی اور دیہی ترقی کا ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد صرف خوراک کی پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سبز ترقی، دیہی خوشحالی اور پائیدار معاشی نمو کے ذریعے زراعت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے تحت جاری کیے گئے اس پروگرام کو چین کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم جزو قرار دیا جا رہا ہے، جو دیہی علاقوں کی ہمہ جہت ترقی اور غذائی تحفظ کے استحکام کے لیے ایک واضح لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔
چین کی اسٹیٹ کونسل نے حال ہی میں زرعی اور دیہی جدیدیت کو تیز رفتار بنانے کے لیے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران متعدد اہداف، ترجیحات اور عملی اقدامات کا تعین کیا گیا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد چینی طرز جدیدیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے زراعت اور دیہی معیشت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
منصوبے کے مطابق 2030 تک ملک کی غذائی تحفظ کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا، زرعی شعبے کے معیار، کارکردگی اور مسابقت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا جبکہ غربت کے خاتمے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید مستحکم اور وسعت دی جائے گی۔ حکام کے مطابق مستقبل کی زرعی ترقی صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ غذائیت سے بھرپور، معیاری اور صحت بخش زرعی مصنوعات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کی بدلتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اس منصوبے میں دو اہم لازمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک چین کی مجموعی اناج پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 725 ملین ٹن تک پہنچائی جائے۔ دوسرا ہدف زرعی مصنوعات کے معیار اور تحفظ کو مزید بہتر بناتے ہوئے معمول کی جانچ پڑتال میں کامیابی کی شرح کو کم از کم 98 فیصد تک بڑھانا ہے۔اس کے علاوہ 13 دیگر متوقع اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن کا تعلق گوشت کی پیداوار، زرعی شعبے میں سائنس و ٹیکنالوجی کی شراکت، سبز زرعی ترقی، دیہی علاقوں میں نکاسی آب کے نظام، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور ماحول دوست زرعی سرگرمیوں کے فروغ سے ہے۔
منصوبے کے تحت زرعی سائنس و ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور زراعت کو ایک جدید اور اعلیٰ معیار کی صنعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح کسانوں کی آمدنی میں مسلسل اور نسبتاً تیز رفتار اضافے کو بھی ترجیح دی گئی ہے تاکہ دیہی آبادی کی زندگی کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
چین نے خوبصورت، ہم آہنگ اور رہائش کے لیے موزوں دیہی علاقوں کی تعمیر کو بھی اہم ہدف قرار دیا ہے۔ منصوبے میں شہری اور دیہی علاقوں کی مشترکہ ترقی کے لیے نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ دونوں کے درمیان ترقیاتی فرق کو کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی خدمات کے معیار میں اضافہ اور دیہی علاقوں میں جدید سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
منصوبے میں زرعی شعبے میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں مخصوص اور منفرد صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا، زرعی ترقی کے سبز ماڈل کو تیز کیا جائے گا اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
زرعی جدیدیت کے اس سفر میں جدید ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ منصوبے کے مطابق اعلیٰ معیار کی زرعی زمینوں کی تعمیر، زرعی سائنسی و تکنیکی اختراعات کی صلاحیت میں اضافہ اور خوراک کے ذخیرے اور تحفظ کے لیے جدید کولڈ چین لاجسٹکس نظام کی تعمیر جیسے بڑے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ اسی طرح زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
حالیہ برسوں میں چین میں زرعی ٹیکنالوجی کے تیزی سے فروغ نے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2025 میں ملک کی اناج پیداوار تقریباً 714.9 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو مسلسل دوسرے سال سات سو ملین ٹن سے زیادہ رہی۔ اسی سال زرعی سائنسی و تکنیکی ترقی کی شراکت 64 فیصد سے تجاوز کر گئی جبکہ فصلوں کی کاشت اور برداشت میں مشینری کے جامع استعمال کی شرح 76.7 فیصد تک پہنچ گئی۔
نئے منصوبے کے مطابق 2030 تک زرعی ترقی میں سائنس و ٹیکنالوجی کی شراکت کو بڑھا کر 67 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ذہین زرعی نظام اور جدید مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
منصوبے میں کئی ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان میں ذہین ڈیزائن پر مبنی افزائش نسل، نئی توانائی سے چلنے والی زرعی مشینری، کم بلندی والی زرعی معیشت، زرعی حیاتیاتی مینوفیکچرنگ اور نئی غذائی مصنوعات شامل ہیں۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق یہ شعبے مستقبل میں زرعی پیداوار، دیہی معیشت اور غذائی صنعت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چین کا یہ نیا زرعی و دیہی جدیدیت منصوبہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی صرف صنعتی اور شہری توسیع سے وابستہ نہیں بلکہ مضبوط دیہی معیشت، جدید زراعت اور پائیدار غذائی تحفظ بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔ جدید سائنس، مصنوعی ذہانت، سبز ترقی اور زرعی اختراعات کے امتزاج سے چین ایک ایسے زرعی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے جو زیادہ پیداواری، ماحول دوست اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل ہو جاتے ہیں تو یہ منصوبہ نہ صرف دیہی خوشحالی اور قومی غذائی تحفظ کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ جدید اور پائیدار زرعی ترقی کے ایک ایسے ماڈل کو بھی جنم دے گا جو دنیا کے دیگر ممالک کے لیے قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔