مصنوعی ذہانت سے ابھرتے نئے روزگار

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

33

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ روزگار کی نوعیت اور مستقبل کے پیشوں کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ چین میں مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی صنعت کے فروغ کے ساتھ ایسے نئے پیشے سامنے آ رہے ہیں جن کا چند برس قبل تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں مہارتوں کی نئی طلب پیدا ہو رہی ہے۔

آج چین کے روبوٹکس جدت مراکز میں انسان نما روبوٹس کو کافی تیار کرنے، کھانے پیش کرنے اور سامان منتقل کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس عمل میں نوجوان تربیت کار ورچوئل ریئلٹی آلات اور خصوصی کنٹرولرز کی مدد سے روبوٹس کی حرکات کو بہتر بناتے ہیں۔ اس نئی ذمہ داری کو باقاعدہ طور پر "انسان نما روبوٹ ٹرینر” کا نام دیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی صنعت سے جنم لینے والے نئے پیشوں میں شامل ہے۔

متعلقہ حلقوں کے مطابق مصنوعی ذہانت جہاں روایتی صنعتوں میں تبدیلی لا رہی ہے، وہیں نئی صنعتوں کی ترقی کو بھی تیز کر رہی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ کئی ایسے افراد جنہیں ماضی میں اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، اب جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیاب کیریئر بنا رہے ہیں۔

روبوٹس کی تربیت اور دیکھ بھال کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر سیکھنے کا جذبہ موجود ہو تو مصنوعی ذہانت سے وابستہ شعبوں میں ترقی کے بے شمار مواقع دستیاب ہیں۔ جیسے جیسے مزید ادارے اس میدان میں شامل ہو رہے ہیں، تربیت یافتہ افرادی قوت اور تکنیکی ماہرین کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اثرات صرف روبوٹکس تک محدود نہیں ہیں۔ بعض علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی مختصر ویڈیوز اور تصویری کہانیوں کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ گزشتہ برس ایسی تخلیقات کو اربوں مرتبہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ متعدد کمپنیوں نے ایسے آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرائے ہیں جہاں عام صارف صرف تحریری خاکہ فراہم کرکے خودکار طریقے سے تصویری کہانیاں اور ویڈیوز تیار کر سکتا ہے۔

اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں دفتری سہولیات اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ نئے کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

بعض علاقوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے اشتہارات میں رواں سال تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ قومی سطح پر بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران متعارف کرائے گئے درجنوں نئے پیشوں میں ایک بڑی تعداد براہ راست مصنوعی ذہانت سے متعلق ہے، اور اندازہ ہے کہ ہر نیا شعبہ اپنے ابتدائی مرحلے میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

اس تبدیلی کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے چین نے "اے آئی پلس” حکمت عملی کے تحت ایسے شعبوں کی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے جن میں روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ساتھ ہی تعلیمی نظام میں بھی مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ 2030 تک بڑی تعداد میں ایسے افراد تیار کیے جا سکیں جو مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔

چین میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ نئے پیشوں، نئی مہارتوں اور نئے معاشی مواقع کو بھی جنم دیتی ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت حقیقی معیشت کے مختلف شعبوں میں مزید گہرائی سے شامل ہوگی، روزگار کی منڈی بھی مسلسل تبدیل ہوگی اور ایسے نئے پیشے سامنے آئیں گے جو صنعتی تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گے۔ یہی رجحان مستقبل میں ایک زیادہ متنوع، جدید اور متوازن روزگار کے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور انسانی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے ترقی کے نئے راستے ہموار کریں گے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button