شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan
-
چین

چین کی ترقی کا "اوپن سورس ماڈل”
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا ایک غیر یقینی معاشی دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، سیاسی کشیدگی اور تجارتی تنازعات نے ترقی کے راستے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں وہ معیشتیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں جو استحکام، تسلسل اور ترقی کا واضح راستہ پیش کر سکیں۔اسی پس منظر میں چین کی معیاری ترقی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایشیا کے اہم پلیٹ فارم بواؤ ایشیائی فورم کے سالانہ اجلاس میں دنیا بھر کے ماہرین، پالیسی ساز اور کاروباری رہنما جمع ہوئے۔حالیہ بواؤ فورم کی اہمیت کئی حوالوں سے نہایت اہم ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال میں استحکام کا کردار موجودہ عالمی منظرنامے میں جہاں ٹیرف، جغرافیائی کشیدگی اور معاشی سست روی جیسے چیلنجز درپیش ہیں، وہاں چین نے اپنی معیشت میں قابل ذکر لچک اور استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سپلائی چینز کے لیے اسے ایک قابل اعتماد ستون سمجھا جا رہا ہے۔چین کا ترقیاتی ماڈل ، جس میں جدت، ہم آہنگی، ماحول دوستی، کھلا پن اور مشترکہ ترقی شامل ہے ، نہ صرف اس کی اپنی معیشت کو مضبوط بنا رہا …
-
اسلام آباد

چین – پاکستان سبز تعاون اور پائیدار ترقی کے حوالے سے اسلام آباد میں شجرکاری سرگرمی کا انعقاد
چین کے قومی یومِ شجر کاری کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ کے تعاون سے ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل سروسز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شجر کاری مہم کے تحت ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور چین – پاکستان سبز تعاون کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی چینی اور پاکستانی شخصیات نے شرکت کی اور سبز و پائیدار مستقبل کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے پودا لگا کر پاک – چین سدا بہار دوستی کی علامت کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر شعبے کی طرح ماحولیات اور سبز ترقی کے میدان میں بھی مثالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ماحول دوست اقدامات اور پائیدار ترقی کے ماڈلز دنیا بھر کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں اور پاکستان بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول کے تحفظ اور شہری سبزہ کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل سروسز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی …
-
چائنا وائیس

چین میں ترقی، جدیدیت اور عوامی طرزِ حکمرانی کا نیا مرحلہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کے سالانہ سیاسی کیلنڈر کا سب سے اہم مرحلہ سمجھے جانے والے "دو اجلاس” یعنی قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس، کے سالانہ اجلاس حال ہی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ ان اجلاسوں نے نہ صرف آئندہ قومی ترقی کی سمت کا تعین کیا بلکہ چین کی طویل مدتی حکمت عملی، جدیدیت کے سفر اور عوامی طرزِ حکمرانی کے عملی نمونے کو بھی واضح کیا۔ ان اجلاسوں کے دوران متعدد اہم قراردادیں اور قوانین منظور کیے گئے، جن میں حکومتی ورک رپورٹ سے متعلق قرارداد، پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے بارے میں قرارداد، ماحولیاتی ضابطۂ اخلاق، قومی اتحاد و ترقی کے فروغ کا قانون اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا قانون شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ چین اب پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پانچ سالہ منصوبہ بندی کا تصور نہ تو چین کی ایجاد ہے اور نہ ہی یہ صرف چین تک محدود رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس طرزِ منصوبہ بندی کو سب سے طویل عرصے تک تسلسل کے ساتھ نافذ کرنے اور نمایاں …
-
چائنا وائیس

چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد
چائنا اِن اسپرنگ ٹائم: پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ، چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ یہ سیمینار چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی اور اس کے عالمی و علاقائی اثرات، خصوصاً پاکستان کے لیے اس کی اہمیت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی تھے، جبکہ مہمانِ اعزاز پاکستان میں چینی سفارت خانے کے سیاسی و ابلاغی امور کے سربراہ وانگ شونگ جئے تھے۔ تقریب میں سابق سفارتکاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں، محققین، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ چین کا آئندہ پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ایک دور اندیش اور مستقبل بین وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں جدت، ماحول دوست ترقی اور مصنوعی ذہانت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو پائیدار معاشی نمو کے ساتھ ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم …
-
چین

چین کا نیا صنعتی وژن
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا اس وقت تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور صنعتی انقلاب کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبے عالمی معیشت کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ممالک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو صرف پیداوار تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑیں۔ اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا مسودہ سامنے آیا ہے جس میں ملک کی معیشت کو عالمی پیداواری مرکز سے ایک عالمی اختراعی طاقت میں تبدیل کرنے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں جدید صنعتوں کی تعمیر اور سائنسی و تکنیکی خودانحصاری کو مستقبل کی ترقی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق چین ایک ایسا جدید صنعتی نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی بنیاد اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ اور جدید ٹیکنالوجی پر ہو۔ اس مقصد کے لیے ملک کو تازہ صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کی نئی لہر سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ نئی پیداواری قوتیں پیدا کی جا سکیں۔ چین میں مختلف …
-
چائنا وائیس

انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی حکمتِ عملی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا میں اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل نے ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ ترقی کے نئے ماڈلز اختیار کریں۔ چین بھی اسی پس منظر میں ایسی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں معیشت کی ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔ اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا خاکہ سامنے آیا ہے جو آئندہ برسوں میں ملک کی ترقی کی سمت متعین کرے گا۔ اس منصوبے میں ماحول دوست ترقی، کاربن اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ 2035 تک جدید سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے ہدف کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے طے کیے گئے 20 اہم اشاریوں میں سے پانچ براہِ راست سبز اور کم کاربن ترقی سے متعلق ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماحول دوست ترقی کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس …
-
چائنا وائیس

چین کی پائیدار اور معیاری ترقی کی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کی جانب سے 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیے جانے کو ملکی پالیسی سازی میں ایک حقیقت پسندانہ مگر بلند حوصلہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین داخلی و خارجی چیلنجوں کے باوجود معیاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے عزم پر قائم ہے اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کے بارے میں پالیسی سازوں کو اعتماد حاصل ہے۔ 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف تقریباً 4.5 فیصد سے 5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ بہتر کارکردگی کے لیے کوشش جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس ہدف کو چین کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے مطابق ایک متوازن اور محتاط حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات اور مالی خطرات کی روک تھام کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ یہ ہدف چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے دوران اقتصادی ترقی کو ایک معقول سطح پر برقرار رکھنے کے مقصد سے ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ چین کے لیے ایک اہم مرحلہ تصور کیا …
-
چین

چین کی آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین میں ہر سال منعقد ہونے والے ’’دو اجلاس‘‘ قومی پالیسی سازی کے اہم ترین مواقع میں شمار ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں نہ صرف گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ آئندہ برسوں کی سمت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس سال یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چین پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی سالانہ نشستیں بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہیں۔ ان اجلاسوں میں مرکزی حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر غور کیا جائے گا، 2026 کے بجٹ اور ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا اور نئے پانچ سالہ منصوبے کے مسودہ خاکے پر بحث کی جائے گی، جو 2030 تک پالیسی ترجیحات کی بنیاد فراہم کرے گا۔ اس سال قانون سازی کا ایجنڈا بھی خاصا جامع ہے۔ ماحولیات، قومیتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی سے متعلق تین اہم مسودہ قوانین زیر غور آئیں گے۔ مختلف ریاستی اداروں کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ محکموں کے ذمہ داران پریس کانفرنسوں کے ذریعے اقتصادی، سماجی اور …
-
چین

چین کا اعلیٰ معیار کی ترقی اور پالیسی تسلسل کا واضح پیغام
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کے سالانہ قومی "دو اجلاس” کے قریب آتے ہی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ، مستحکم معاشی نمو اور سماجی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور تازہ پالیسی اشارے سامنے آئیں گے۔ وسیع تر پالیسی معاونت اور اصلاحات کے ذریعے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔ بیجنگ میں منعقد ہونے والی چین کی اس اہم ترین سیاسی سرگرمی میں ملک کی اعلیٰ ترین قانون ساز باڈی قومی عوامی کانگریس اور اعلیٰ ترین سیاسی مشاورتی باڈی چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاس شامل ہیں۔ اس سال کا اہم ترین ایجنڈا 2026 تا 2030 کے نئے پانچ سالہ منصوبے کے لیے رہنما ترقیاتی خاکے کا جائزہ ہے، جو پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ثابت ہوگا۔ یہ مرحلہ 2035 تک بنیادی طور پر سوشلسٹ جدیدکاری کے حصول کی جانب ایک کلیدی سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ پانچ سالہ جامع اور تزویراتی منصوبہ بندی چین کے نظمِ حکمرانی کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف عالمی اور داخلی چیلنجز کے باوجود ملک نے ثابت قدمی کے ساتھ پیش قدمی کی، متعدد اہداف حاصل کیے اور چینی طرزِ جدیدکاری کے سفر میں مستحکم پیش رفت جاری رکھی۔ رواں اجلاسوں میں اندرونی طلب کو فروغ …
-
چین

چین کی ویزا فری پالیسی اور سیاحتی حکمتِ عملی کے ثمرات
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کی جانب سے ویزا فری داخلے کی پالیسیوں میں نمایاں توسیع کے دو سال بعد بھی ’’چائنا ٹریول‘‘ عالمیسیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔بالخصوص اسپرنگ فیسٹیول، جو چین کا سب سے اہمروایتی تہوار ہے، غیر ملکی مہمانوں کے لیے محضسیاحت نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب کے جذباتی اور تہوارانہ پہلو سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی سہولت بخش پالیسیوں اور منظم انتظامات نے عالمی مسافروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔ چینی نئے سال کی شام کے ابتدائی اوقات میں روس سے آنے والی تین پروازیں جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان کے شہر سانیا پہنچیں، جن کے ذریعے 570 سے زائد غیر ملکی سیاح اس معروف ساحلی مقام پر پہنچے۔ امیگریشن مراکز پر مؤثر انتظامات کے باعث مسافروں کی تیز رفتار کلیئرنس ممکن بنائی گئی، جس سے ویزا فری پالیسی کے عملی فوائد نمایاں ہوئے۔ جنوبی ہائی نان سے لے کر شمالی ترین صوبہ ہیلونگ جیانگ تک غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جو نہ صرف سیاحتی مقامات کی سیر بلکہ اسپرنگ فیسٹیول کی تقریبات میں شرکت کے لیے چین کا رخ کر رہے ہیں۔ شنگھائی میں خصوصی اسپرنگ فیسٹیول سٹی واک پروگرام ترتیب دیے گئے، جہاں غیر ملکی مہمان اسپرنگ کپلٹس لکھنے، روایتی لباس پہننے اور مقامی پکوان تیار کرنے جیسے تجربات …






