چائنا وائیس

اس سیکشن میں  ہم چین میں ہونے والی سرگرمیوں میں ویڈیو کی  شکل میں اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔

  • Urdu Titles

    عالمی گورننس میں اصلاحات کا چینی وژن

    تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ آج کی دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال جیسے پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی حکمرانی کے موجودہ نظام کی افادیت اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں چین نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، اعتماد اور عملی اقدامات کے ذریعے عالمی حکمرانی کے نظام کو مزید منصفانہ، موثر اور مساوی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔ چین کی جانب سے "زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔ آٹھ زبانوں میں شائع ہونے والی اس دستاویز کا مقصد عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کے نظریات، تجاویز اور عملی اقدامات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہو اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔ چینی حکام کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں عالمی حکمرانی کے مسائل پوری انسانیت کی فلاح و بہبود سے جڑے ہوئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا اس وقت تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید صنعتوں اور سائنسی اختراعات کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کر سکے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں میں تعلیم، سائنس اور صنعت کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت جامعات میں ایسے نئے شعبہ جات متعارف کرائے جا رہے ہیں جو نہ صرف قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ابھرتی ہوئی عالمی صنعتوں کی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ رواں سال قومی کالج داخلہ امتحان "گاؤکاؤ” کے موقع پر لاکھوں طلبہ کو پہلی مرتبہ متعدد نئے تعلیمی شعبہ جات میں داخلے کے مواقع میسر آئے ہیں، جو چین کے تعلیمی نظام میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ چین کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تعلیمی فہرست کے مطابق ملک کی مختلف جامعات میں متعدد نئے انڈرگریجویٹ پروگراموں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں مجسم مصنوعی ذہانت، کم بلندی کی فضائی معیشت اور انتظام، سمندری ذہانت اور بغیر پائلٹ ٹیکنالوجیز …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    چین میں اعلیٰ تعلیم کا نیا رخ

    تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، اختراع اور مستقبل کی مسابقت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت اور نئی سائنسی ٹیکنالوجیز دنیا کی معیشت کا رخ متعین کر رہی ہیں، وہاں جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے نصاب اور تخصصات کو بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔ چین نے گزشتہ برسوں میں اسی سوچ کے تحت اپنی اعلیٰ تعلیم کے نظام میں نمایاں اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو مستقبل کی صنعتوں اور قومی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ رواں سال قومی کالج داخلہ امتحان "گاؤکاؤ” میں شریک تقریباً ایک کروڑ انتیس لاکھ طلبہ کے لیے متعدد نئے جامعاتی شعبہ جات متعارف کرائے گئے ہیں جو چین کی تعلیمی اور صنعتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔ چین کی وزارتِ تعلیم کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ تازہ ترین تعلیمی فہرست کے مطابق مختلف جامعات میں کئی نئے انڈرگریجویٹ پروگراموں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں مجسم مصنوعی ذہانت، کم بلندی کی فضائی معیشت و انتظام، سمندری ذہانت اور بغیر پائلٹ ٹیکنالوجیز …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    چین کا زرعی و دیہی جدیدیت کا نیا منصوبہ

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ default چین نے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدیدیت کو تیز رفتار بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو مزید مستحکم کرنا، دیہی علاقوں کی ترقی کو فروغ دینا اور چینی طرز جدیدیت کے اہداف کے حصول میں زراعت کو ایک مضبوط ستون کے طور پر استوار کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، زرعی وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار ترقی جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں چین کا یہ اقدام نہ صرف ملکی سطح پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ عالمی زرعی ترقی کے لیے بھی قابلِ توجہ مثال بن سکتا ہے۔ چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ منصوبے میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران زرعی اور دیہی شعبے کی ترقی کے لیے اہم اہداف، پالیسی اقدامات اور عملی لائحہ عمل متعین کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک ملک کی غذائی تحفظ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، زرعی شعبے کی معیار، کارکردگی اور مسابقت میں نمایاں بہتری لائی جائے گی جبکہ غربت کے خاتمے سے …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    ماحولیاتی تحفظ سے سبز ترقی تک

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، جنگلات میں لگنے والی آگ، شدید سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عالمی یوم ماحولیات 2026 کا پیغام "اب موسمیاتی اقدام کا وقت ہے” بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے حالات میں چین نے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جو نہ صرف ملک کے اندر مثبت نتائج دے رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار ترقی کے لیے ایک قابلِ توجہ مثال بن رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے ماحولیات کے تحفظ اور سبز ترقی کو ہمیشہ قومی ترقی کے اہم ستونوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی جانب سے پیش کیا گیا تصور کہ "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” آج چین کی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد بن چکا ہے۔ یہ نظریہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وجہ …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    صحت مند اور باصلاحیت بچے ہی مضبوط قوم کی ضمانت

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ جدید دور میں جہاں تعلیمی معیار کو ترقی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، وہیں جسمانی صحت، اخلاقی تربیت اور ذہنی نشوونما کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہے۔ چین میں گزشتہ برسوں کے دوران نئی نسل کی فلاح و بہبود کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے مختلف سطحوں پر جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یکم جون کو منائے جانے والے بین الاقوامی یومِ اطفال کے موقع پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کا مستقبل صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ بچوں کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ قومی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ بچوں کی بینائی، جسمانی صحت، تعلیمی ترقی اور مجموعی نشوونما کے حوالے سے وہ متعدد مواقع پر اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایک مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے صحت مند اور قابل نوجوان نسل ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کو …

    مزیدپڑھیں
  • چین نامہ

    خلا میں 210 روزہ تاریخی قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی کامیاب واپسی

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ انسانی خلائی تحقیق کی دنیا میں چین مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حالیہ پیش رفت نے نہ صرف چین کی سائنسی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا ہے بلکہ مستقبل کی گہری خلائی مہمات کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔ اسی سلسلے میں چین کے شین زو-21 مشن کے تینوں خلانورد 210 روز تک خلا میں قیام کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ مشن چین کے خلائی اسٹیشن کی تاریخ میں کسی ایک عملے کی جانب سے خلا میں طویل ترین مسلسل موجودگی کا نیا ریکارڈ بھی بن گیا ہے۔ چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی کے مطابق شین زو-21 مشن کے خلانوردوں کی واپسی کا عمل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مکمل کیا گیا، جس کے دوران خلائی جہاز کے مختلف حصوں کی علیحدگی اور واپسی کے تمام مراحل کامیابی سے انجام پائے۔ مشن کے دوران خلانوردوں نے نہ صرف روزمرہ آپریشنل ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال، سائنسی تجربات اور بیرونی خلائی سرگرمیوں سمیت متعدد اہم فرائض بھی سرانجام دیے۔ اس دوران تین خلائی چہل قدمیاں کی گئیں جبکہ خلائی اسٹیشن کو ممکنہ خلائی ملبے سے …

    مزیدپڑھیں
  • چین نامہ

    چین عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، عالمی تجارتی تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان مختلف ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے چین کے مسلسل دورے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مئی کے آغاز سے اب تک وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت متعدد اہم عالمی شخصیات نے چین کا رخ کیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ عالمی سفارت کاری کے منظرنامے میں چین کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں ، وسطی ایشیا، یورپ، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ سطح وفود نے چین کے دورے کیے ہیں۔ ان دوروں میں نہ صرف سیاسی روابط بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، علاقائی تعاون اور عالمی استحکام جیسے معاملات بھی مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کے پیچھے ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک ایک ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار کی تلاش میں ہیں جو غیر یقینی عالمی ماحول میں استحکام، ترقی اور تعاون کے مواقع …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    چین پاکستان سفارتی تعلقات کے 75 برس

    تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ بین الاقوامی سیاست میں بعض تعلقات وقتی مفادات، بدلتے ہوئے حالات یا علاقائی ضروریات کے تابع ہوتے ہیں، تاہم دنیا میں دوستانہ تعلقات کی چند مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر اعتماد، خلوص اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار رہتی ہیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی بھی انہی منفرد تعلقات میں شمار ہوتی ہے جسے نہ صرف دونوں ممالک کی قیادت بلکہ عوام بھی بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان تعلقات کو اکثر “ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے” تعلقات قرار دیا جاتا ہے۔ اکیس مئی 2026ء کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے پچھتر برس مکمل ہو رہے ہیں، جو اس لازوال دوستی کے سفر کا ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔ چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کی ثابت قدمی سے حمایت کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران عالمی سیاست میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں، کئی علاقائی اور بین الاقوامی بحران سامنے آئے، مگر …

    مزیدپڑھیں
  • Urdu Titles

    چین میں نوجوانوں کے بدلتے تفریحی رجحانات

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ جدید دور میں سیاحت اور صارفین کے طرزِ زندگی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں محض روایتی سرگرمیوں کے بجائے نئے اور منفرد تجربات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چین میں خاص طور پر نوجوان نسل کے درمیان یہ رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں سیاحت، کھیل اور خریداری کے انداز میں جدت، لچک اور عملی شرکت کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ مئی کی تعطیلات کے دوران سامنے آنے والے رجحانات اس تبدیلی کی واضح عکاسی کرتے ہیں، جو نہ صرف صارفین کے رویوں کو بدل رہے ہیں بلکہ معیشت کے نئے پہلوؤں کو بھی جنم دے رہے ہیں۔ چین کے معروف  شہر چھنگ دو  میں قائم ملک کے پہلے انڈور آئس کلائمبنگ جم نے اس نئے رجحان کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔ یہ منفرد کھیل، جو پہلے محدود حلقوں تک ہی مقبول تھا، اب نوجوانوں کے لیے ایک دلچسپ اور پُرکشش سرگرمی بنتا جا رہا ہے۔ اس جم میں تعطیلات کے دوران بڑی تعداد میں افراد کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب سیاحتی سرگرمیوں میں محض دیکھنے کے بجائے خود حصہ لینا زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار …

    مزیدپڑھیں
Back to top button