چائنا وائیس

اس سیکشن میں  ہم چین میں ہونے والی سرگرمیوں میں ویڈیو کی  شکل میں اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔

  • Urdu Titles

    چین میں سیاحت کا نیا رجحان

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ عالمی سیاحت کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے، جہاں سیاح اب محض تاریخی مقامات کی سیر یا خریداری تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ کسی ملک کی روزمرہ زندگی، ثقافت اور مقامی اندازِ حیات کو قریب سے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین میں بھی یہی رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں غیر ملکی سیاح اب صرف مشہور مقامات تک محدود رہنے کے بجائے عام شہری زندگی کے تجربے کو اپنی ترجیح بنا رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے چین کی سیاحتی صنعت کو ایک نئی جہت دی ہے، جس میں ثقافت، طرزِ زندگی اور عوامی تجربات مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ لیبر ڈے کے تعطیلاتی سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی چین میں سرحد پار سفر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق روزانہ لاکھوں افراد چین میں داخل اور خارج ہو رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین ایک مرتبہ پھر عالمی سیاحوں کے لیے ایک اہم اور پرکشش منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی دلچسپی …

    مزیدپڑھیں
  • space 2

    خلائی غیر متوقع خطرات سے نمٹنے میں چین کی کامیابی

    خلائی تحقیق کے میدان میں غیر متوقع خطرات اور تکنیکی آزمائشیں کسی بھی ملک کے خلائی پروگرام کی صلاحیتوں کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔ مدار میں گردش کرنے والا خلائی ملبہ آج عالمی خلائی سرگرمیوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے

    مزیدپڑھیں
  • Media

    عالمی ابلاغ اور چین

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا میں ذرائع ابلاغ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ قوموں کے درمیان فاصلے کم کرنے، اعتماد پیدا کرنے اور مشترکہ ترقی کے دروازے کھولنے کا ایک طاقتور وسیلہ بن چکے ہیں۔ ایسے دور میں جب عالمی سطح پر بے یقینی اور معلوماتی مقابلہ بڑھ رہا ہے، مثبت اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ چین، جو تیزی سے عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کا ایک مرکزی کردار بنتا جا رہا ہے، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ مضبوط بین الاقوامی ابلاغ ہی اس کی ترقیاتی کہانی کو دنیا تک پہنچانے اور عالمی تعاون کو فروغ دینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ چین کے لیے بین الاقوامی ابلاغ کی اہمیت کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف یہ اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ اقتصادی شراکت داری، ثقافتی روابط اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی ترقی، اپنی کامیابیوں اور اپنی پالیسیوں کو واضح اور مثبت انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کی ساکھ بہتر ہوتی ہے بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بھی مستحکم ہوتے ہیں۔ …

    مزیدپڑھیں
  • boao2

    چین کا غیر یقینی دنیا میں تعاون اور امید کا پیغام

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی حالات، سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے عالمی نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں وہ پلیٹ فارمز خاص اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کریں۔ اسی تناظر میں چین کے خوبصورت جزیرے ہائی نان کے ساحلی قصبے بواؤ میں منعقد ہونے والا بواؤ ایشیائی فورم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما، ماہرین اور کاروباری شخصیات ایک بہتر اور متوازن مستقبل پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کا اجتماعی حل تلاش کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا میں تحفظ پسندی اور یکطرفہ پالیسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے میں اس فورم کو امید، اعتماد اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں ہونے والی گفتگو اس بات کا اظہار ہے کہ اختلافات کے باوجود تعاون کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ اگر اس فورم کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ …

    مزیدپڑھیں
  • 02

    چین – پاکستان سبز تعاون اور پائیدار ترقی کے حوالے سے اسلام آباد میں شجرکاری سرگرمی کا انعقاد

    چین کے قومی یومِ شجر کاری کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ کے تعاون سے ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل سروسز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شجر کاری مہم کے تحت ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور چین – پاکستان سبز تعاون کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی چینی اور پاکستانی شخصیات نے شرکت کی اور سبز و پائیدار مستقبل کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے پودا لگا کر پاک – چین سدا بہار دوستی کی علامت کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر شعبے کی طرح ماحولیات اور سبز ترقی کے میدان میں بھی مثالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ماحول دوست اقدامات اور پائیدار ترقی کے ماڈلز دنیا بھر کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں اور پاکستان بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول کے تحفظ اور شہری سبزہ کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل سروسز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی …

    مزیدپڑھیں
  • session2

    چین میں ترقی، جدیدیت اور عوامی طرزِ حکمرانی کا نیا مرحلہ

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کے سالانہ سیاسی کیلنڈر کا سب سے اہم مرحلہ سمجھے جانے والے "دو اجلاس”  یعنی قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس، کے سالانہ اجلاس حال ہی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ ان اجلاسوں نے نہ صرف آئندہ قومی ترقی کی سمت کا تعین کیا بلکہ چین کی طویل مدتی حکمت عملی، جدیدیت کے سفر اور عوامی طرزِ حکمرانی کے عملی نمونے کو بھی واضح کیا۔ ان اجلاسوں کے دوران متعدد اہم قراردادیں اور قوانین منظور کیے گئے، جن میں حکومتی ورک رپورٹ سے متعلق قرارداد، پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے بارے میں قرارداد، ماحولیاتی ضابطۂ اخلاق، قومی اتحاد و ترقی کے فروغ کا قانون اور قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا قانون شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ چین اب پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پانچ سالہ منصوبہ بندی کا تصور نہ تو چین کی ایجاد ہے اور نہ ہی یہ صرف چین تک محدود رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس طرزِ منصوبہ بندی کو سب سے طویل عرصے تک تسلسل کے ساتھ نافذ کرنے اور نمایاں …

    مزیدپڑھیں
  • 01

    چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد

    چائنا اِن اسپرنگ ٹائم: پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ، چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ یہ سیمینار چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی اور اس کے عالمی و علاقائی اثرات، خصوصاً پاکستان کے لیے اس کی اہمیت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی تھے، جبکہ مہمانِ اعزاز پاکستان میں چینی سفارت خانے کے سیاسی و ابلاغی امور کے سربراہ وانگ شونگ جئے تھے۔ تقریب میں سابق سفارتکاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں، محققین، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ چین کا آئندہ پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ایک دور اندیش اور مستقبل بین وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں جدت، ماحول دوست ترقی اور مصنوعی ذہانت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو پائیدار معاشی نمو کے ساتھ ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم …

    مزیدپڑھیں
  • GG12

    چین کا نیا صنعتی وژن

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ دنیا اس وقت تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور صنعتی انقلاب کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبے عالمی معیشت کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ممالک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو صرف پیداوار تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑیں۔ اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا مسودہ سامنے آیا ہے جس میں ملک کی معیشت کو عالمی پیداواری مرکز سے ایک عالمی اختراعی طاقت میں تبدیل کرنے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں جدید صنعتوں کی تعمیر اور سائنسی و تکنیکی خودانحصاری کو مستقبل کی ترقی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق چین ایک ایسا جدید صنعتی نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی بنیاد اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ اور جدید ٹیکنالوجی پر ہو۔ اس مقصد کے لیے ملک کو تازہ صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کی نئی لہر سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ نئی پیداواری قوتیں پیدا کی جا سکیں۔ چین میں مختلف …

    مزیدپڑھیں
  • session2

    انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی حکمتِ عملی

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ آج کی دنیا میں اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صنعتی ترقی، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل نے ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ ترقی کے نئے ماڈلز اختیار کریں۔ چین بھی اسی پس منظر میں ایسی ترقیاتی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں معیشت کی ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔ اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا خاکہ سامنے آیا ہے جو آئندہ برسوں میں ملک کی ترقی کی سمت متعین کرے گا۔ اس منصوبے میں ماحول دوست ترقی، کاربن اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ 2035 تک جدید سوشلسٹ معاشرے کے قیام کے ہدف کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودے میں اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے طے کیے گئے 20 اہم اشاریوں میں سے پانچ براہِ راست سبز اور کم کاربن ترقی سے متعلق ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماحول دوست ترقی کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس …

    مزیدپڑھیں
  • IMG 2978

    چین کی پائیدار اور معیاری ترقی کی سمت

    تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ چین کی جانب سے 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیے جانے کو ملکی پالیسی سازی میں ایک حقیقت پسندانہ مگر بلند حوصلہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین داخلی و خارجی چیلنجوں کے باوجود معیاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کے عزم پر قائم ہے اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کے بارے میں پالیسی سازوں کو اعتماد حاصل ہے۔ 2026ء کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف تقریباً 4.5 فیصد سے 5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے، جس کے ساتھ بہتر کارکردگی کے لیے کوشش جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس ہدف کو چین کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے مطابق ایک متوازن اور محتاط حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات اور مالی خطرات کی روک تھام کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ یہ ہدف چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026ء تا 2030ء) کے دوران اقتصادی ترقی کو ایک معقول سطح پر برقرار رکھنے کے مقصد سے ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ چین کے لیے ایک اہم مرحلہ تصور کیا …

    مزیدپڑھیں
Back to top button