سکھر،وڈ انسپیکٹر کو بھاری رشوت لے کر رجسٹرڈ بحال کر دیا گیا

سکھر ،محکمہ فوڈ میں کرپشن عروج پر معطل کئے گئے فوڈ انسپیکٹر کو بھاری رشوت لے کر رجسٹرڈ بحال کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ ماہ ڈینم گودام میں سے 1لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں دسمبر 2011میں سکھر کے مشہور با اثر فلور ملز مالکان کو 3ماہ کی ادھار پر دینے کا ڈرامہ رچانے اور کروڑوں روپے رشوت حاصل کرنے والے با اثر انسپیکٹر شفیق سروہی اور سلیم اخوند کو ڈی ،ایف ،سی سکھر رفیق شاہانی نے میڈیا اور اخبارات میں خبریں شائع ہونے کے بعد معطل کر کے ایک انسپیکٹر سے گندم کی خریداری کے مراکز کا چارج نہ لیتے ہوئے کچھ دن کے بعد دوبارہ بحال ہونے کا عندہا دے دیا تھا ۔با و ثوق ذرائع کے مطابق ڈی ،ایف، سی سکھر نے صوبائی وزیر خوراک کے قریبی ساتھی کی مدد سے انسپیکٹرز کو بحال کرانے میں کامیاب ہو گیا اور فی انسپیکٹر سے 10لاکھ روپے رشوت بحالی رجسٹرڈ کی رقم و صول کی ۔جبکہ ڈسٹرک فوڈ سکھر میں 23انسپیکٹر موجود ہیں ۔اس سال گندم کی خریداری کے 13 مراکز سینٹر قائم کئے گئے تھے ۔جن میں صرف 5سپر وائیزر 1انسپیکٹر کو تعینات کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ڈی ،ایف ، سی سکھر نے اپنی آفیس میں گذشتہ ماہ انسپیکٹروں کے درمیان فی سینٹر دس لاکھ روپے رشوت کے عوض دینے کی بولی لگائی جسے5سپر وائیزر 1انسپیکٹرنے ایک کروڑ 30لاکھ روپے میں لیا جس کے بعد گودام انچارجوں نے خالی باردانے کو اوپن مارکیٹ میں سیل کر کے پرانی بوریاں کسانوں کو فراہم کی اور فی بوری 100روپے سے 150تک رشوت حاصل کی ۔

اردو ٹوڈے نیوز لیٹر

تازہ ترین خبریں، بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہِ راست اپنے ان باکس میں حاصل کریں۔

قارئین کی رائے (فیس بک کمنٹس)

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مرکزی صفحہ تازہ ترین شیئر کریں تحریر بھیجیں