بیجنگ کی 12345 ہاٹ لائن، شہری مسائل کے حل کا نیا طریقہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کسی شہر کی ترقی کا اندازہ صرف بلند عمارتوں، جدید ٹرانسپورٹ اور بہتر بنیادی سہولتوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہاں رہنے والے لوگوں کی آواز کتنی توجہ سے سنی جاتی ہے اور ان کے مسائل کس حد تک حل ہوتے ہیں۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ نے اسی تصور کے تحت ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے مقامی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی باشندے بھی اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور شہر کے انتظامی امور کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ نظام 12345 ہاٹ لائن کے نام سے کام کرتا ہے۔
بیجنگ میں 2019ء میں عوامی شکایات پر فوری ردعمل کا نظام شروع کیا گیا، جس کا مقصد روزمرہ مسائل کو جلد حل کرنا اور شہری خدمات کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت 60 سے زیادہ ہاٹ لائن سروسز کو یکجا کرکے ایک نمبر 12345 کے ذریعے دستیاب کیا گیا۔ بیجنگ کی دو کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے قائم یہ نظام رہائش، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، روزگار اور کاروباری خدمات سمیت شہری زندگی کے تقریباً ہر اہم شعبے سے متعلق مسائل پر کارروائی کرتا ہے۔
یہ ہاٹ لائن چوبیس گھنٹے فعال رہتی ہے اور اس پر 1700 سے زیادہ کارکن مختلف شفٹوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سات برس سے کچھ زیادہ عرصے میں بیجنگ میں عوام کی جانب سے تقریباً 20 کروڑ شکایات اور درخواستیں نمٹائی گئی ہیں، جبکہ مسائل کے حل اور شہریوں کے اطمینان کی شرح دونوں 97 فیصد سے زیادہ رہی ہیں۔ اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ غیر ملکی باشندوں کو بھی شہر کی زندگی کا حصہ سمجھتے ہوئے ان کی شکایات اور ضروریات پر توجہ دی جاتی ہے۔
غیر ملکی باشندوں کے لیے ہاٹ لائن کی خدمات اب مزید وسیع ہو رہی ہیں۔ ویزا، داخلے اور خروج سے متعلق پالیسیوں اور ورک پرمٹ کی درخواستوں کے بارے میں پوچھ گچھ عام موضوعات میں شامل ہیں۔ انگریزی زبان میں خدمات فراہم کرنے والے کارکنوں کے علاوہ، دیگر زبانوں میں آنے والی کالز کو بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی کے کثیر لسانی سروس مرکز سے منسلک کیا جاتا ہے، جہاں رضاکار سہ فریقی کال کے ذریعے رابطے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح ہاٹ لائن اب آٹھ غیر ملکی زبانوں میں چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ بیجنگ نے 12345 آن لائن پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے، جہاں لوگ ڈیجیٹل طریقے سے اپنی شکایات اور تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی شہریوں کی سہولت کے لیے گو بیجنگ ون اسٹاپ سروس پلیٹ فارم، سرکاری عوامی خدمات کی انگریزی ایپ، بیجنگ کا بین الاقوامی ویب پورٹل اور ہوائی اڈوں پر خدمات کے مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سفر کی منصوبہ بندی اور چین میں داخلے سے لے کر بیجنگ میں روزمرہ زندگی گزارنے تک مختلف مراحل میں غیر ملکیوں کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
تاہم، شہریوں کی شمولیت کا مطلب صرف شکایات درج کرانا نہیں، بلکہ شہر کے مشترکہ وسائل کے بہتر استعمال میں حصہ لینا بھی ہے۔ مراکش سے تعلق رکھنے والے طارق سہیل تقریباً ہر ہفتے تھونگ چو ضلع کی بیجنگ لائبریری میں مطالعہ کرتے ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بعض افراد طویل وقت تک اپنی نشستیں خالی چھوڑ کر بھی ان پر قبضہ برقرار رکھتے ہیں، جس سے دوسرے قارئین کو جگہ نہیں ملتی۔
اگست 2025ء میں انہوں نے 12345 آن لائن کے ذریعے تجویز پیش کی کہ خالی نشستوں پر بلا ضرورت طویل قبضے کو روکنے کے لیے 30 منٹ کی حد مقرر کی جائے۔ لائبریری انتظامیہ نے مسئلے کا جائزہ لینے کے بعد چینی اور انگریزی زبانوں میں آگاہی نوٹس آویزاں کیے، نگرانی بڑھائی اور نشستوں پر چھوڑے گئے سامان کو بروقت ہٹانے کے اقدامات کیے۔ اس طرح ایک غیر ملکی باشندے کی تجویز سے عوامی سہولت کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
عوامی شکایات پر فوری ردعمل کے اس نظام نے شہری انتظام کے روایتی یک طرفہ طریقے کو زیادہ اشتراکی انداز میں تبدیل کیا ہے، جس میں مختلف فریقوں کو مسائل کی نشاندہی اور حل میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ اس عمل میں غیر ملکی باشندوں کی شرکت سے بین الاقوامی تجربات اور مختلف نقطۂ نظر بھی شہری انتظام کا حصہ بنتے ہیں۔
بیجنگ کا یہ تجربہ دوسرے ممالک کی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے۔ لاطینی امریکہ کے مختلف تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان محققین سمیت 120 سے زیادہ ممالک کے تقریباً 2500 غیر ملکی مہمان حالیہ برسوں میں اس مرکز کا دورہ کر چکے ہیں۔ بیلاروس کے وفود بھی تین مرتبہ اس نظام کا مشاہدہ کرنے آئے ہیں، جبکہ ملک میں اسی طرز کی ہاٹ لائن قائم کرنے کے لیے بیجنگ کے تجربے سے استفادے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔ان کے خیال میں اس نظام کی اہمیت ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ایسے انتظامی طریقۂ کار میں بھی ہے جو لوگوں کے روزمرہ مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے پر توجہ دیتا ہے۔
بیجنگ کی 12345 ہاٹ لائن یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید شہری انتظام میں ٹیکنالوجی، فوری کارروائی اور عوامی شمولیت ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ جب شہریوں کو اپنی بات پہنچانے کا آسان ذریعہ میسر ہو اور متعلقہ ادارے اس پر عملی قدم اٹھائیں تو نہ صرف خدمات بہتر ہوتی ہیں بلکہ لوگوں کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس نظام میں غیر ملکی باشندوں کی شمولیت اس تصور کو مزید وسعت دیتی ہے کہ شہر کی بہتری میں حصہ لینے کا حق صرف مقامی شہریوں تک محدود نہیں، بلکہ وہاں رہنے والے ہر فرد کی آواز اہمیت رکھتی ہے۔



