چین کا سیلف گورننس سے جدیدیت کی جانب سفر

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

02

کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے عوام کا اعتماد برقرار رکھنے، بدعنوانی کی روک تھام اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے داخلی نظم و ضبط اور مؤثر احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ چین میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے گزشتہ برسوں کے دوران ان شعبوں میں اصلاحات کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ پارٹی کے اندر سیلف گورننس کو مضبوط بنانے، اختیارات کے استعمال کی نگرانی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ادارہ جاتی نظم و ضبط بہتر بنانا اور قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکمرانی کی صلاحیت کو مستحکم کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کا چار روزہ اجلاس شروع ہوا ہے، جس میں پارٹی کی سیلف گورننس کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے سیلف گورننس کو پارٹی کی مستقل ذمہ داری قرار دیا ہے۔ نومبر 2012 میں جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے بعد انہوں نے واضح کیا تھا کہ لوہے پر ضرب لگانے کے لیے خود مضبوط ہونا ضروری ہے۔ بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بدعنوانی کو بے قابو ہونے دیا گیا تو اس سے پارٹی اور ریاست دونوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس مؤقف کے تحت داخلی احتساب اور نظم و ضبط کو عارضی مہم کے بجائے پارٹی کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا۔

2014 میں شی جن پھنگ نے سیلف گورننس کو پارٹی کی چار نکاتی حکمت عملی میں شامل کیا۔ اس حکمت عملی میں ہر لحاظ سے نسبتاً خوشحال معاشرے کی تعمیر، اصلاحات کو گہرا کرنا، قانون کے مطابق حکمرانی کو آگے بڑھانا اور پارٹی کے اندر جامع و سخت سیلف گورننس کو فروغ دینا شامل ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق یہ حکمت عملی طویل مدتی حکمرانی، ملک کے استحکام اور عوام کی خوش حالی کے لیے اہم ہے۔ اس کا مقصد پارٹی کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے ساتھ اس کی قیادت میں جاری اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کو مؤثر بنانا بھی ہے۔

سیلف گورننس کو عملی شکل دینے کے لیے دسمبر 2012 میں آٹھ نکاتی ضابطہ متعارف کرایا گیا۔ اس میں پارٹی رہنماؤں کے سرکاری دوروں، اجلاسوں، دستاویزات اور دیگر سرکاری ذمہ داریوں کے لیے قواعد طے کیے گئے۔ غیر ضروری اجلاسوں، شاہانہ ضیافتوں، غیر معمولی پروٹوکول، سرخ قالین کی تقریبات، بڑے وفود اور پرتعیش سرکاری مراعات جیسی روایات کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری امور میں سادگی، عملی کارکردگی اور ذمہ داری کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ برس اس ضابطے پر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنانے اور حاصل شدہ نتائج کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نئی مہم بھی شروع کی گئی۔

بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے تحت اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں سے لے کر نچلی سطح کے اہلکاروں تک مختلف افراد کے خلاف تحقیقات اور تادیبی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سابق اعلیٰ سیاسی عہدیداروں، سیاسی بیورو اور اس کی قائمہ کمیٹی کے سابق ارکان، اعلیٰ فوجی عہدیداروں اور کئی برس قبل اہم عہدوں سے سبک دوش ہونے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ اس پالیسی کے تحت احتساب کو عہدے، مرتبے یا سابقہ خدمات سے بالاتر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، 2025 میں وزارتی سطح یا اس سے بلند عہدوں پر فائز 115 عہدیداروں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں، جبکہ عوام کے براہ راست مفادات کو متاثر کرنے والی بدعنوانی اور بدانتظامی کے معاملات میں 6 لاکھ 27 ہزار افراد کو تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال سرحد پار بدعنوانی کے 500 سے زیادہ معاملات کی تحقیقات بھی شروع کی گئیں۔ ان اعدادوشمار سے احتسابی کارروائیوں کے وسیع دائرے کا اندازہ ہوتا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پارٹی کے اعلیٰ تادیبی ادارے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے خبردار کیا کہ بدعنوانی ایک ایسا مسئلہ ہے جو بار بار سامنے آ سکتا ہے، اس لیے اس کے خلاف جدوجہد مسلسل جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو اس کے عہدے یا سابقہ خدمات کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔

سیلف گورننس کو مؤثر بنانے کے لیے پارٹی کی قیادت، نظریاتی تعلیم اور ادارہ جاتی نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔ گزشتہ 14 برسوں کے دوران پارٹی کے آئین اور ملک کے آئین میں پارٹی کی قیادت کے کردار کو مزید واضح کیا گیا۔ اصلاحات، قومی سلامتی، سائبر امور اور مالی و اقتصادی معاملات جیسے اہم شعبوں کی نگرانی کے لیے مرکزی کمیشن قائم کیے گئے، جبکہ مرکزی سطح پر فیصلوں اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے طریقہ کار کو بہتر بنایا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد پالیسی سازی، عمل درآمد اور نگرانی کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

نظریاتی تعلیم کے لیے بھی ملک گیر سطح پر نو بڑی مہمات شروع کی گئیں۔ رواں سال فروری میں شروع ہونے والی تازہ مہم میں پارٹی ارکان کو حکومتی کارکردگی کے بارے میں اپنے طرز فکر کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ اس کا مقصد ایسے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جن میں بعض عہدیدار عوامی فلاح و بہبود کے بجائے اپنی کارکردگی کے اعدادوشمار اور ذاتی تشہیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مہم پارٹی کے نظم و ضبط اور آٹھ نکاتی ضابطے پر عمل درآمد سے متعلق سابقہ اقدامات کا تسلسل ہے۔

نگرانی کے ادارہ جاتی نظام میں بہتری بھی سیلف گورننس کی کوششوں کا حصہ ہے۔ قومی نگرانی کمیشن اور مقامی نگرانی کے کمیشن قائم کیے گئے تاکہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی نگرانی پارٹی رکنیت سے قطع نظر کی جا سکے۔ اس کے ساتھ پارٹی کے اندر انضباطی معائنے کو بھی اہم ذریعہ بنایا گیا ہے۔ ان معائنوں کے دوران اعلیٰ سطح کی پارٹی اتھارٹیز مختلف ٹیمیں بھیجتی ہیں، جو عہدیداروں کے اختیارات کے استعمال اور مرکزی پالیسیوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیتی ہیں۔ یہ ٹیمیں عہدیداروں اور عوام سے گفتگو کرتی ہیں، دستاویزات کا معائنہ کرتی ہیں اور شکایات وصول کرتی ہیں۔ نتائج متعلقہ پارٹی اداروں کو پیش کیے جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر خامیوں کی نشاندہی اور مزید اصلاحات کی جاتی ہیں۔

2012 کے بعد پارٹی کے داخلی قواعد و ضوابط بھی بڑی تعداد میں مرتب یا نظرثانی کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد اختیارات کے استعمال کو واضح قواعد کے تابع کرنا اور ادارہ جاتی نگرانی کے ذریعے بے ضابطگیوں کے امکانات کم کرنا ہے۔ تاہم شی جن پھنگ نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ بعض مقامات پر قواعد پر مناسب عمل درآمد نہیں ہوتا اور غیر رسمی طریقے باضابطہ ضوابط پر غالب آ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق قواعد کو اس قدر مؤثر ہونا چاہیے کہ ان کی خلاف ورزی ناقابل قبول بن جائے اور اختیارات کا استعمال شفاف انداز میں کیا جائے۔ پارٹی قیادت کا مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں عہدیداروں کے لیے بدعنوانی کی جرأت، موقع اور خواہش تینوں کی حوصلہ شکنی ہو۔

سیلف گورننس کی یہ کوششیں چین کی جدیدیت کے وسیع تر منصوبے سے بھی منسلک ہیں۔ 2026 سے 2030 تک جاری رہنے والے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پارٹی کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی قیادت کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ رواں سال پارٹی اسکول میں اعلیٰ صوبائی اور وزارتی سطح کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی ترقی، عوامی خدمت اور خطرات کی روک تھام کے لیے پارٹی عہدیداروں کی صلاحیت اور عملی استعداد کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

چین نے 2035 تک بنیادی طور پر جدیدیت کے ہدف کے حصول کے لیے ایک اہم مرحلے میں قدم رکھا ہے، جبکہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال اور ملک کے اندر مختلف چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں پارٹی قیادت، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ شی جن پھنگ نے پارٹی ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ پارٹی کے بنیادی مقصد اور ذمہ داری سے وابستہ رہیں اور ملک کو نئی تاریخی کامیابیوں کی طرف لے جانے کے لیے کام کریں۔ اس تناظر میں سیلف گورننس کو بدعنوانی کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں بلکہ حکمرانی کی صلاحیت بہتر بنانے، عوامی مفادات کے تحفظ اور چین کی جدیدیت کے اہداف کو آگے بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

اسی موضوع پر مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button