چین میں روزگار اور ہنر کی ابھرتی راہیں

تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

skills jobs

ایک میٹرو کی پوری بوگی، روبوٹ، ڈرون اور کمپیوٹر اسکرینیں بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں، لیکن آج کی دنیا میں ان سب کے پیچھے ایک مشترک ضرورت ہے، اور وہ ہے نئے دور کے مطابق بدلتی ہوئی فنی مہارت۔ صنعتیں جیسے جیسے خودکار، ڈیجیٹل اور زیادہ پیچیدہ ہو رہی ہیں، ویسے ویسے روایتی ہنر بھی نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر ،ریل گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں حصہ لینے والے نوجوانوں کو صرف ایک نظام سمجھنا نہیں بلکہ بجلی، بریک، ایئر کنڈیشننگ، دروازوں اور پہیوں جیسے مختلف حصوں کے ساتھ کام کرنے، خرابی تلاش کرنے اور ضروری مرمت کرنے کی صلاحیت بھی درکار ہے۔ اسی طرح ڈرون سے متعلق مہارت میں ہارڈ ویئر کی تنصیب، پروگرامنگ اور خودکار پرواز کے نظام کو ایک ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

یہ تبدیلی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آج ایک پیشہ وہ نہیں رہا جو چند دہائیاں پہلے تھا۔ ماضی میں ہنرمندی کے مقابلوں میں تعمیرات اور روایتی صنعتوں سے متعلق مہارتیں نمایاں تھیں، لیکن آٹومیشن، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل معیشت اور خدمات کے پھیلاؤ نے ہنر کی نئی اقسام پیدا کر دی ہیں۔

چین اپنے پیشہ ورانہ تعلیمی نظام کو بھی اسی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک میں نئے تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں ڈیجیٹل معیشت، کم بلندی کی فضائی معیشت، جدید آلات اور ابھرتی ہوئی خدمات جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس کا مقصد ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو نئی صنعتوں کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے۔

روبوٹکس اور سافٹ ویئر ٹیسٹنگ جیسے شعبے اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں۔ خودکار موبائل روبوٹس اب صرف ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی مشینیں نہیں رہے بلکہ سینسرز، لائیڈار اور خودکار راستہ تلاش کرنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے خود فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح سافٹ ویئر ٹیسٹرز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مختلف ڈیجیٹل نظام صارفین تک پہنچنے سے پہلے درست اور قابل اعتماد انداز میں کام کریں۔

ڈیجیٹل معیشت کے پھیلاؤ نے ایسے ہنرمند افراد کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صنعت، مالیات، تعلیم، نقل و حمل اور دیگر شعبوں میں سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال نے نئی نوعیت کی تکنیکی مہارتوں کو ضروری بنا دیا ہے۔ اسی وجہ سے پیشہ ورانہ ادارے بھی اپنے نصاب اور تربیتی پروگراموں میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں۔

تاہم یہاں ایک بنیادی مسئلہ موجود ہے۔ نئی صنعتیں بعض اوقات اتنی تیزی سے بدلتی ہیں کہ تعلیمی نظام کے لیے ان کے مطابق مستقل نصاب تیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک نئے پروگرام کی تیاری اور طلبہ کو تربیت دینے میں کئی برس لگ سکتے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اس دوران کئی مرتبہ تبدیل ہو سکتی ہے۔

اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے چین میں مختصر مدتی اور محدود پیمانے کے تربیتی پروگراموں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ مکمل تعلیمی پروگرام شروع کرنے سے پہلے منتخب طلبہ کے ساتھ چھوٹے تجرباتی پروگرام چلائے جاتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ نیا نصاب صنعت کی حقیقی ضرورت پوری کرتا ہے یا نہیں۔

اس عمل میں صنعت اور تعلیمی اداروں کا تعاون بھی اہم ہو گیا ہے۔ اب صرف یہ کافی نہیں کہ اساتذہ کتابوں اور کلاس روم کی معلومات تک محدود رہیں، بلکہ انہیں نئی ٹیکنالوجی سے واقف رہنے کے لیے صنعت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسے تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں طلبہ کو حقیقی صنعتی ماحول سے مشابہ نظام پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اس طرح کے نظام میں طلبہ کسی فرضی مشق کے بجائے حقیقی صنعتی عمل کے قریب رہتے ہیں۔ ایک آرڈر کے اندراج سے لے کر مواد کی منتقلی، روبوٹک اسمبلی، لیزر سے کندہ کاری اور گودام تک مختلف مراحل کو ایک ہی تربیتی ماحول میں سمجھایا جاتا ہے۔ اس سے طالب علم کو یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ صنعت میں مختلف ٹیکنالوجیز ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح کام کرتی ہیں۔

چین میں صنعت، تعلیم اور ہنرمندی کے جائزے کو جوڑنے والے نیٹ ورک بھی وسیع ہو رہے ہیں، جہاں کمپنیوں کو تربیت اور مہارت کے جائزے میں زیادہ فعال کردار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں میں سکھائی جانے والی مہارتوں اور حقیقی صنعتی ضرورت کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے۔

بغیر پائلٹ فضائی نظام اس نئے ماڈل کی ایک اور مثال ہے۔ ڈرون تیار کرنے والے نوجوانوں کو سینکڑوں پرزوں کو جوڑنے، پروگرامنگ کرنے اور مشین کی جانچ کے بعد اسے خودکار پرواز کے قابل بنانا پڑتا ہے۔ یہاں مکینیکل، برقی اور ڈیجیٹل مہارتیں ایک ہی کام میں جمع ہو جاتی ہیں۔

یہی شاید نئے دور کی ہنرمندی کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ مستقبل کا ماہر صرف ایک شعبے کا ہنر مند نہیں ہوگا بلکہ اسے مختلف ٹیکنالوجیز کے باہمی تعلق کو سمجھنا بھی ہوگا۔ روبوٹکس میں مکینیکل علم کے ساتھ پروگرامنگ، ڈرون میں ہارڈ ویئر کے ساتھ سافٹ ویئر اور جدید ریل نظام میں بجلی کے ساتھ خودکار کنٹرول کی سمجھ ضروری ہوتی جا رہی ہے۔

چین میں ہنرمندی کے شعبے میں جاری تبدیلی اس وسیع حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ صنعت بدلتی ہے تو ہنر بھی بدلتا ہے۔ آج جو ٹیکنالوجی نئی ہے، کل وہ عام ہو سکتی ہے اور اس کے ساتھ نئی مہارتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ اس لیے مستقبل کی پیشہ ورانہ تعلیم کا اصل چیلنج صرف نئے کورسز بنانا نہیں بلکہ ایسا لچکدار نظام قائم کرنا ہے جو صنعت کی رفتار کے ساتھ خود بھی تبدیل ہوتا رہے۔

میٹرو کی بوگی سے لے کر خودکار ڈرون تک، روبوٹ سے لے کر سافٹ ویئر تک، آج کے ہنرمند ہاتھ صرف اوزار نہیں چلا رہے بلکہ ٹیکنالوجی کو سمجھ کر اسے عملی شکل دے رہے ہیں۔ یہی بدلتی ہوئی ہنرمندی آنے والے صنعتی دور کی بنیاد بن سکتی ہے، جہاں تعلیم، صنعت اور عملی مہارت ایک دوسرے سے زیادہ مضبوطی سے جڑی ہوں گی۔


مزید خبروں یا اپڈیٹس کے لئے اردو ٹوڈے کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں.

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

اسی موضوع پر مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button