چین میں عوامی فلاح و بہبود کی عملی کوششیں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں عوامی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے اور مستحق افراد تک حکومتی امداد پہنچانے کے لیے ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے تحت اہل شہریوں کو درخواست دیے بغیر بھی مختلف طبی اور سماجی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس نظام میں متعلقہ سرکاری ادارے باہمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے مستحق افراد کی شناخت کرتے ہیں، جس سے انتظامی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں اور عوام کو بروقت مدد فراہم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
یہ تبدیلی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی نگرانی اور احتساب کے نظام کی ایک مثال ہے، جس کے ذریعے سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور عوامی وسائل کو ضرورت مند افراد تک پہنچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جس میں 33 محکموں اور اداروں کو منسلک کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت امداد کی 12 اہم خدمات درخواست کے بغیر فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح شہریوں کو بار بار درخواستیں جمع کرانے اور مختلف محکموں کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
عوامی اعتماد کا حصول اور لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی ہمہ گیر اور سخت نظم و ضبط پر مبنی حکمرانی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اسی موضوع کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں کل رکنی اجلاس میں بھی مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ بیجنگ میں جاری اس اہم اجلاس میں پارٹی کے نظم و ضبط اور سیلف گورننس کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے سے متعلق مرکزی کمیٹی کی مجوزہ قرارداد پر غور کیا جا رہا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا دستور عوام کی خدمت کو پارٹی کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ محنت کش طبقے اور عوام کی وسیع اکثریت کے مفادات کے سوا پارٹی کے اپنے کوئی خصوصی مفادات نہیں۔ اسی اصول کی بنیاد پر پارٹی کے اندر احتساب اور سیلف گورننس کے عمل کو اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ ذاتی مفادات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مراعات یافتہ طبقوں کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔ پارٹی کے نزدیک اپنی خامیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کی اصلاح تنظیمی استحکام اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
چین کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری شی جن پھنگ نے 2012 میں بدعنوانی کے خلاف ایک وسیع مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد اعلیٰ اور نچلی سطح پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام اور سرکاری اداروں میں نظم و ضبط کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں یہ اصول نمایاں کیا گیا ہے کہ ایک ارب 40 کروڑ عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے چند ہزار افراد کو ناراض کرنا بھی قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے وسیع تر مفادات کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے احتساب کی کارروائیوں کا دائرہ صرف اعلیٰ عہدوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ روزمرہ زندگی سے متعلق سرکاری خدمات میں بدعنوانی اور بدانتظامی کی نشاندہی پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ سال 2025 کی سرکاری کارکردگی کے جائزے کے مطابق، ملک بھر میں نظم و ضبط اور نگرانی سے متعلق اداروں نے عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی بدعنوانی اور بدعنوان طرز عمل کے 9 لاکھ 67 ہزار مقدمات کی تحقیقات کیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 77 ارب 60 کروڑ یوان، یعنی 11 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر کے برابر رقم اور املاک عوام کو واپس دلائی گئیں یا ان کی بازیابی میں مدد فراہم کی گئی۔
یہ اقدامات اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ عوامی وسائل کے تحفظ اور بدعنوانی کے خاتمے کا براہ راست تعلق صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات کی بہتری سے ہے۔ جب سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کو روکا جاتا ہے تو ان وسائل کو عوامی ضروریات پوری کرنے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح احتساب محض انتظامی کارروائی نہیں رہتا بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے وسیع تر مقصد سے منسلک ہو جاتا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سیلف گورننس کی حکمت عملی میں اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے بیک وقت متعدد اقدامات کیے جائیں، تاکہ سرکاری عہدے داروں میں نہ بدعنوانی کرنے کی جرأت ہو، نہ اس کا موقع ملے اور نہ ہی اس کی خواہش پیدا ہو۔ اس مقصد کے لیے نظم و ضبط کے نفاذ، پارٹی کے طرز عمل میں بہتری اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ داخلی نگرانی اور عوامی احتساب کو مربوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ طریقۂ کار اس تصور پر مبنی ہے کہ مؤثر حکمرانی کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد، اختیارات کی نگرانی اور ذمہ داریوں کا تعین بھی ضروری ہے۔ جب اداروں کے فرائض واضح ہوں، محکموں کے درمیان رابطہ مؤثر ہو اور سرکاری عہدے داروں کو اپنے اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا پڑے تو ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تسلسل پیدا کرنے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چین کی طویل مدتی منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم اور تحقیق کے شعبوں پر توجہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری اور پالیسیوں کے تسلسل کے ذریعے معاشی و سماجی ترقی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ غربت میں کمی، دیہی علاقوں کی ترقی اور تیز رفتار ریل کے نیٹ ورک کی توسیع جیسے اقدامات نے مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے اور عوام کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہ انتظامی اور احتسابی اقدامات اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں جب چین اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے، یعنی 2026 سے 2030 تک کی مدت کے ترقیاتی اہداف پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ شی جن پھنگ نے جنوری میں اس بات پر زور دیا کہ اختیارات کو مؤثر ادارہ جاتی پابندیوں کے دائرے میں رکھا جائے اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد زیادہ واضح سوچ اور مضبوط عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد پانچ سالہ منصوبے کے اہداف اور ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے مضبوط ضمانت فراہم کرنا ہے۔
مجموعی طور پر، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی ہمہ گیر خود نگرانی اور سیلف گورننس کی کوششیں انتظامی نظم و ضبط، عوامی وسائل کے تحفظ اور بنیادی خدمات کی بہتری کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہیں۔ اس حکمت عملی میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے ساتھ عوامی ضروریات کو ترجیح دینے، اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور ترقی کے ثمرات زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچائے جا سکیں۔




