چین میں صحت کا شعبہ، عوامی فلاح سے عالمی تعاون تک

تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

health3

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ صرف معاشی نمو یا جدید بنیادی ڈھانچے سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہاں لوگوں کو علاج، طبی سہولتوں اور صحت کے تحفظ تک کتنی آسان رسائی حاصل ہے۔ ایک ارب 40 کروڑ سے زیادہ آبادی والے چین میں صحت عامہ کی بہتری نہ صرف ملکی ترقی کا اہم حصہ ہے بلکہ عالمی صحت کے شعبے میں تعاون کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد، 2012 سے چین نے صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور عوام کو زیادہ جامع طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کیے۔ صحت مند چین اقدام کے تحت علاج معالجے، بیماریوں کی روک تھام، طبی تحفظ اور روایتی چینی طب سمیت مختلف شعبوں کی ترقی پر توجہ دی گئی۔ ان کوششوں سے طبی خدمات کی دستیابی اور رسائی میں بہتری آئی ہے۔

چین نے طبی خدمات، روایتی طب، بیماریوں کی روک تھام اور طبی تحفظ کے وسیع نظام قائم کیے ہیں۔ ملک بھر میں 11 لاکھ سے زیادہ طبی و صحت کے ادارے موجود ہیں، جبکہ 90 فیصد سے زیادہ آبادی 15 منٹ کے اندر قریبی طبی سہولت تک پہنچ سکتی ہے۔ بنیادی طبی بیمہ بھی تقریباً 95 فیصد آبادی کو تحفظ فراہم کرتی ہے، جس سے علاج کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

صحت کے شعبے میں پیش رفت کے اثرات متوقع عمر اور ماں اور بچے کی صحت سے متعلق اعداد و شمار میں بھی نمایاں ہیں۔ چین میں 2025 کے دوران اوسط متوقع عمر 79.25 سال تک پہنچ گئی۔ اسی سال ہر ایک ہزار پیدائشوں میں بچوں کی شرحِ اموات کم ہو کر 3.8 رہ گئی، جبکہ ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں زچگی کے دوران اموات کی شرح 13.4 تک آ گئی۔ یہ اعداد و شمار طبی سہولیات، حفاظتی اقدامات اور زچگی و بچوں کی نگہداشت میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

صحت کے نظام کی ترقی میں صرف اسپتالوں اور طبی اداروں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ خدمات مختلف علاقوں اور آبادی کے طبقات تک پہنچیں۔ اسی لیے چین میں طبی نظام کی اصلاحات، طبی عملے کی صلاحیتوں میں اضافے، صحت سے متعلق قانون سازی اور عوامی آگاہی پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد علاج کے ساتھ بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔

کووڈ۔19 کی عالمی وبا نے دنیا کے طبی نظاموں اور عوامی صحت کے انتظامات کو سخت آزمائش سے دوچار کیا۔ چین جیسے گنجان آبادی والے ملک کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس تجربے نے وبائی امراض کی نگرانی، ہنگامی طبی تیاری اور صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔

چین کی صحت عامہ سے متعلق کوششیں ملکی حدود تک محدود نہیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ طبی تعاون، سرحد پار بیماریوں کے خطرات سے نمٹنے اور عالمی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں بھی چین حصہ لے رہا ہے۔ روایتی چینی طب 190 سے زیادہ ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2012 کے اواخر سے چین 59 ممالک اور خطوں میں طبی امدادی ٹیمیں بھیج چکا ہے۔

کووڈ۔19 کی وبا کے دوران بھی چین نے مختلف ممالک کو وبا سے بچاؤ اور اس سے نمٹنے کے لیے طبی سامان فراہم کیا۔ اس طرح صحت کے شعبے میں تعاون نے یہ اہمیت اجاگر کی کہ متعدی بیماریوں اور دیگر عوامی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان معلومات، وسائل اور تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔

عالمی سطح پر صحت کے مسائل کی نوعیت بھی مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔ بڑھتی عمر کی آبادی، دائمی امراض، نئی وباؤں کے خطرات اور طبی سہولیات تک غیر مساوی رسائی ایسے چیلنج ہیں جن کے لیے مسلسل تحقیق، مؤثر طبی نظام اور مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔ چین کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ وسیع پیمانے پر طبی سہولتوں کی فراہمی، بنیادی بیمہ اور بیماریوں کی روک تھام کو یکجا کرنا قومی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

صحت عامہ کو بہتر بنانا کسی ایک منصوبے یا مختصر مدت کی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلسل سرمایہ کاری، مؤثر انتظام اور عوامی ضروریات کو ترجیح دینے کا عمل ہے۔ چین میں طبی خدمات کی توسیع، بیمہ کے وسیع دائرے اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق بہتری اسی طویل مدتی کوشش کا حصہ ہیں۔

چین کی جانب سے آئندہ بھی صحت مند چین اقدام کے تحت طبی سہولیات کو بہتر بنانے اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ عالمی صحت کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ کسی بھی ملک میں صحت کی بہتری کا اصل مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو بروقت علاج میسر ہو، بیماریوں سے بچاؤ ممکن بنایا جائے اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع بڑھیں۔ یہی پیش رفت قومی ترقی کے ساتھ پوری انسانیت کی فلاح میں بھی حصہ ڈال سکتی ہے۔

شاہد افراز خان Shahid Afraz Khan

شاہد افراز خان پیشے کے اعتبار سے براڈکاسٹر ہیں۔سن 2007 میں بطور پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔… More »

اسی موضوع پر مزید پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Back to top button